ویب ڈیسک: چکوال اسلام آباد لاہور موٹروے پر بلکسر انٹرچینج کے قریب ہونے والے افسوسناک بس حادثے کے بعد سکائی ویز بس کمپنی کے مالک، اڈہ منیجر اور ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق، مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 279، 322، 337-G، 427 اور 109 کے تحت تھانہ صدر چکوال میں درج کیا گیا ہے۔پولیس ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ ڈرائیور عاطف نذیر ہفتے کی رات 12 بجے لاہور سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوا اور صبح 5 بجے راولپنڈی پہنچا۔ منیجر اور کمپنی مالک نے اسے آرام کا وقت دیے بغیر صبح 6 بجے دوبارہ لاہور کے لیے روانہ کر دیا۔غنودگی اور لاپرواہی کے باعث ڈرائیور بس کو تیز رفتاری سے چلا رہا تھا جس کے نتیجے میں بس بلکسر کے قریب کھائی میں جا گری۔حادثے میں چار بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق اور 30 مسافر زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں لاہور کی دو سگی بہنیں 14 سالہ خدیجہ، 2 سالہ حرم اور ان کا 8 سالہ بھائی احمد شامل ہیں، جبکہ ان کی والدہ شدید زخمی ہوئیں۔
اسی طرح 31 سالہ امِ رباب اور ان کا 8 ماہ کا بیٹا حیدر بھی جاں بحق ہوئے، جبکہ شوہر محسن اور 2 سالہ بیٹی ابیہہ زخمی ہوئے۔ایک مسافر نے میڈیا کو بتایا کہ ڈرائیور بس کو انتہائی تیز اور غیر محتاط انداز میں چلا رہا تھا، یہی لاپرواہی حادثے کا سبب بنی۔پولیس نے ڈرائیور، اڈہ منیجر اور کمپنی مالک کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، جبکہ زخمیوں کو مقامی اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔