موٹروے پولیس نے ملتان کے قریب موٹروے ایم-4 پر تیز رفتاری کے پہلے مقدمے کا اندراج کرتے ہوئے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق، ایک گاڑی 173 کلومیٹر فی گھنٹہ کی خطرناک اور غیر قانونی رفتار سے موٹروے پر سفر کر رہی تھی، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے روکا گیا۔
مقدمہ درج، ڈرائیور گرفتار
موٹروے پولیس نے ڈرائیور رحیم خان کے خلاف تھانہ بدھلہ سنت ملتان میں غفلت اور تیز رفتار ڈرائیونگ کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کروا دی۔ ملزم کو حراست میں لے کر مقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
موٹروے پولیس کی وارننگ
ترجمان موٹروے پولیس نے عوام کو تنبیہ کی ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی، خاص طور پر حد رفتار سے تجاوز، برداشت نہیں کی جائے گی۔ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل نہ کرنے والوں کے خلاف مزید کارروائیاں کی جائیں گی تاکہ حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ تیز رفتاری پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جس سے ٹریفک قوانین کی سختی سے عمل داری کے نئے رجحان کا اشارہ ملتا ہے۔