سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے پاکستانی مستقل مندوب

 پاکستان نے مئی 2025 میں بھارتی جارحیت کے جواب میں یو این منشور کے مطابق اپنے فطری حقِ دفاع کا استعمال کیا
جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا کشمیر پر قبضہ ہے حق خودارادیت سے محروم رکھنا  انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے 
 قانون کی حکمرانی امن و انصاف اور اجتماعی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،آج بین الاقوامی قانون کے احترام کو کڑی آزمائش کا سامنا ہے
نیویارک(آ ئی این پی )اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار  نے کہا ہے ھارت کی سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے،  پاکستان نے مئی 2025 میں بھارتی جارحیت کے جواب میں یو این منشور کے مطابق اپنے فطری حقِ دفاع کا استعمال کیا،جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا کشمیر پر غیر قانونی قبضہ ہے،کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم رکھنا سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان خیالات کااظہا رانہوں نے سلامتی کونسل میں امن انصاف اور کثیر الجہتی نظام سے متعلق مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے  کیا ۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ قانون کی حکمرانی امن و انصاف اور اجتماعی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے، آج بین الاقوامی قانون کے احترام کو کڑی آزمائش کا سامنا ہے۔عاصم افتخار نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات نے ریاستوں کے عالمی قوانین کو مجروح کیا، جب قانون طاقت یا مصلحت کے آگے جھکے گا تو عدم استحکام گہرا ہوگا، تنازعات مزید جڑ پکڑ لیتے ہیں اور پر امن بقائے باہمی خطرے میں پڑ جاتی ہے