سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی آبی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ

 یہ خوراک، توانائی، صحتِ عامہ، روزگار اور انسانی سلامتی کو براہِ راست متاثر کر رہا ہے، عثمان جدون 
نیویارک (آن لائن) اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور اس کی مسلسل خلاف ورزیوں کو پاکستان کی آبی سلامتی اور جنوبی ایشیا کے علاقائی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور زیریں دریائی ممالک کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اقوام  متحدہ میں پاکستان  کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے کینیڈا کے مستقل مشن اور اقوامِ متحدہ کی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام منعقدہ  گلوبل واٹر بینکرپسی پالیسی راؤنڈ ٹیبل سے خطاب کرتے ہوئے کہ کہا  بھارت کا گزشتہ سال اپریل میں سندھ طاس معاہدے (IWT) کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ، اور اس کے بعد زیریں علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں بغیر اطلاع رکاوٹیں ڈالنے اور ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا روکنے جیسے اقدامات، پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکے ہیں۔انہوں نے بھارت کے رویے کو ایک ایسے ملک کا اقدام قرار دیا جو دانستہ طور پر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ انہوں  نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور اس میں کسی قسم کی یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 1960 میں طے پانے والا یہ معاہدہ گزشتہ چھ دہائیوں سے دریائے سندھ کے طاس میں پانی کی منصفانہ اور قابلِ پیش گوئی تقسیم کا ایک کامیاب اور آزمودہ فریم ورک فراہم کرتا آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طاس دنیا کے سب سے بڑے مسلسل آبپاشی نظاموں میں سے ایک کو سہارا دیتا ہے، جو پاکستان کی زرعی ضروریات کے لیے 80 فیصد سے زائد پانی فراہم کرتا ہے اور 24 کروڑ سے زائد افراد کی زندگی اور روزگار کا دار و مدار اسی پر ہے