پی ٹی آئی کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ جب حکومت جوڈیشل کمیشن کا اعلان کرے گی تو پی ٹی آئی اس کے ساتھ مذاکرات کے لیے بیٹھنے کے لیے تیار ہو جائے گی۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے اور سینیٹ اجلاس میں قائد حزب اختلاف کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے لیے کوئی جگہ نہیں رکھی گئی اور لیڈر آف دی اپوزیشن اور لیڈر آف دا ہاؤس کو کبھی بھی بولنے کا موقع ملنا چاہیے۔شبلی فراز نے کہا کہ حکومت کا مقصد مذاکرات کو ناکام بنانا تھا اور تحریری مطالبات پر بہت زیادہ وقت ضائع کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ انصاف اور قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کی ہے اور جب حکومت جوڈیشل کمیشن کا اعلان کرے گی اور سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا وعدہ کرے گی، تب پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے بیٹھ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کرے تو پی ٹی آئی اس کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرے گی۔
شبلی فراز نے پیکا بل کے حوالے سے بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیکا ایکٹ کا مقصد نہ صرف پی ٹی آئی اور صحافیوں کو نشانہ بنانا ہے بلکہ اس میں سچ بولنے والوں کو بھی سزا دینے کا ارادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کی پاسنگ کے لیے اسٹیک ہولڈرز کی رائے کو شامل کرنا ضروری ہے، لیکن حکومت نے اس بل میں کسی کو شامل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بات کرنے کی اجازت نہ دی جائے تو وہ عوام کے سامنے اس معاملے پر بات کریں گے۔سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ اپنے کیسز کو مذاکرات کا حصہ نہیں بنائیں گے، اور ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مذاکرات عوام کے مفاد کے لیے ہیں نہ کہ کسی فرد کے کیسز کے حل کے لیے۔
سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے پیکا ایکٹ کو آئین کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ یہ بل صحافیوں اور عوام کی آزادی کو سلب کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے رجیم چینج ہوا ہے، حکومتی جماعتیں اپنی پالیسیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں اور عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ان کے ساتھ احتجاج کریں گے اور اس بل کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔اس تمام گفتگو میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے پیکا ایکٹ کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس میں ترمیم کی جائے تاکہ عوام کی آواز دبانے کی کوششوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔