شبلی فراز کا اعلان: مذاکرات کے لیے سنجیدہ پیش کش آئے تو بات چیت ممکن ہے

شبلی فراز کا اعلان: مذاکرات کے لیے سنجیدہ پیش کش آئے تو بات چیت ممکن ہے

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے کہا ہے کہ خفیہ مذاکرات کے حوالے سے جو باتیں سامنے آ رہی ہیں، وہ ہم بھی سن رہے ہیں، اگر مذاکرات کے لیے کوئی سنجیدہ پیش کش ہوگی تو اس پر بات کریں گے۔

 انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ملاقات کے دوران واضح طور پر کہا ہے کہ کسی سے مذاکرات نہیں ہو رہے۔شبلی فراز نے مزید کہا کہ ہمارا احتجاج صرف احتجاج برائے احتجاج نہیں ہے، احتجاج اس لیے کیا جاتا ہے کہ عوام کو ان کے حقوق نہیں ملتے۔ جب ملک کا سب سے بڑا سیاسی رہنما جیل میں ہو تو سیاسی جدوجہد کرنا لازم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدوجہد کرنا ہمارا فرض ہے، ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پہلے جو مذاکرات حکومت کے ساتھ ہوئے، وہ سنجیدہ نوعیت کے نہیں تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے مذاکرات کو صحیح طریقے سے ہینڈل نہیں کیا اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کو روکا گیا، جب کہ دیگر سیاسی پارٹیوں کے لوگ اپنے سربراہوں سے ملنے کے مواقع حاصل کرتے رہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ عوام ہماری بات نہیں مانیں گے بلکہ بانی پی ٹی آئی کی بات مانیں گے، اور مذاکرات ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جن کے پاس دینے اور لینے کی صلاحیت ہو۔ ان کے مطابق حکومت کے ساتھ مذاکرات وقت کا ضیاع تھے۔انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران بانی پی ٹی آئی اور پارٹی ورکرز کی ملک کے بھرپور ساتھ اور بھارت کو دیے گئے بھرپور جواب کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی جگہ ہے لیکن ملک کے اندر موجود مسائل اپنی جگہ کھڑے ہیں جنہیں حل کرنا ضروری ہے۔