عمر ایوب کے بعد شبلی فراز بھی جوڈیشل کمیشن سے مستعفی ہو گئے

عمر ایوب کے بعد شبلی فراز بھی جوڈیشل کمیشن سے مستعفی ہو گئے

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

 انہوں نے 32 ایف آئی آرز اور عدالتی پیشیوں کی وجہ سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا اور اپنا استعفیٰ چیئرمین سینیٹ کو ارسال کر دیا۔

استعفیٰ کی وجوہات:
شبلی فراز نے بتایا کہ انہیں مختلف عدالتوں میں جاری کیسز کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، جس کے سبب جوڈیشل کمیشن کی رکنیت جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ گزشتہ روز عمر ایوب، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے بھی جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا، اور بیرسٹر گوہر کو اپنی جگہ جوڈیشل کمیشن کا رکن نامزد کیا۔

عدالتوں کے کیسز اور گرفتاری کے وارنٹ:
ذرائع کے مطابق، شبلی فراز اور عمر ایوب دونوں نے عدالتوں میں جاری کیسز کے باعث استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ جوڈیشل کمیشن کی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر دونوں کے فیصل آباد سے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے تھے۔

جوڈیشل کمیشن کی نئی نامزدگیاں:
26 ویں آئینی ترمیم کے بعد اپوزیشن کی جانب سے عمر ایوب اور شبلی فراز کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے جوڈیشل کمیشن میں شامل کیا گیا تھا، اور اب دونوں کی جگہ نئے ارکان کی نامزدگی کا فیصلہ کل کیا جائے گا۔یہ صورتحال دونوں اپوزیشن رہنماؤں کی سیاسی مشکلات کو مزید بڑھا رہی ہے، جو عدالتوں میں جاری کیسز کے باعث اپنے سیاسی و قانونی کردار پر اثرات محسوس کر رہے ہیں۔