حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام سے گریزاں، شبلی فراز کا سخت ردعمل

حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام سے گریزاں، شبلی فراز کا سخت ردعمل

شبلی فراز: جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شبلی فراز نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ 26 مئی اور 9 مئی کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنائے۔

مطالبہ: شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اگر حکومت جوڈیشل کمیشن نہیں بناتی تو یہ ظاہر کرے گا کہ حکومت عوام کے سامنے سچ نہیں لانا چاہتی۔
حکومتی وعدہ: انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ 8 دن میں کمیشن کے قیام کا فیصلہ ہو جائے گا، لیکن اب تک کچھ نہیں ہوا۔
مذاکرات کی مشروط حمایت: شبلی فراز نے واضح کیا کہ اگر حکومت کمیشن بناتی ہے تو پی ٹی آئی مذاکرات جاری رکھنے پر تیار ہے۔
سیاسی استحکام کی ضرورت: انہوں نے زور دیا کہ سیاسی استحکام کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا اور اسی مقصد کے لیے پی ٹی آئی نے مذاکرات کا راستہ اپنایا ہے۔
فواد چوہدری: اپوزیشن الائنس کی تشکیل پر توجہ
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کی توجہ اپوزیشن الائنس کو مضبوط کرنے پر ہے۔

اہم فیصلے: انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں اور آئندہ مذاکرات کے لیے فضل الرحمن، شاہد خاقان عباسی، اور محمود اچکزئی کو شامل کرنے کی بات کی ہے۔
اسد قیصر کو ذمہ داری: عمران خان نے اسد قیصر کو اپوزیشن الائنس کے معاملات کی قیادت کرنے کی ذمہ داری دی ہے اور بڑے سیاسی الائنس کی تشکیل پر زور دیا ہے۔
عمران خان کا وژن: فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان نے اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کو سراہا ہے اور ان کا مقصد ملک میں سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔
دیگر نکات:
شبلی فراز نے پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کے چیئرمین کی نشست خالی رہنے پر تنقید کی اور کہا کہ یہ اپوزیشن کا حق ہے۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیاسی استحکام اور قومی مسائل کے حل کے لیے حکومت کو نیک نیتی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔