سرکاری ملازمین کا خزانے کو 8.30ارب کا بجلی جھٹکا
حاضر سروس نے 5ارب، ریٹائرڈ نے 3ارب سے زائد کی بجلی استعمال کی ،مفت بجلی استعمال کرنے والوں میں گریڈ ایک سے گریڈ 22تک کے افسر اور ملازمین شامل،وفاقی حکومت اور پاور ڈویڑن کی مفت بجلی کی سہولت بند کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی
اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی حکومت سرکاری ملازمین اور افسران کی مفت بجلی ختم کرنے میں ناکام ہے، رواں مالی سال 6ماہ میں سرکاری ملازمین نے 8ارب 30کروڑ روپے سے زائد کی بجلی استعمال کی۔ دستاویزات کے مطابق 23کروڑ 71لاکھ یونٹس سے زائد بجلی استعمال کی گئی اور ملازمین کی تعداد 2 لاکھ 16 ہزار ہے جن میں سے ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازمین اور افسر شامل ہیں۔ 1 لاکھ 13 ہزار حاضر سروس افسروں اور ملازمین نے 5 ارب سے زائد کی مفت بجلی استعمال کی اور چھ ماہ میں 14 کروڑ 96 لاکھ یونٹس استعمال کیے۔ ریٹائرڈ ملازمین کی تعداد 88 ہزار سے زائد ہے جنہوں نے 3 ارب سے زائد کی بجلی استعمال کی، انہوں نے چھ ماہ میں 8 کروڑ 75 لاکھ یونٹس استعمال کیے۔ مفت بجلی استعمال کرنے والوں میں گریڈ ایک سے گریڈ 22تک کے افسر اور ملازمین شامل ہیں تاہم گریڈ 22 کے موجودہ افسروں کو بجلی نہیں مل رہی لیکن 22گریڈ کے ریٹائرڈ افسر مفت بجلی کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ افسروں اور ملازمین کا تعلق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، واپڈا، نیشنل ٹرانسمشن اینڈ ڈیسپیچ کمپنی ، سرکاری بجلی گھروں اور پی آئی ٹی سی سے ہے۔ وفاقی حکومت اور پاور ڈویڑن نے ان افسروں اور ملازمین کی مفت بجلی کی سہولت بند کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔