امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اردن کے بادشاہ عبداللہ کو ٹیلی فون کیا جس میں غزہ جنگ بندی اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت کی۔
دونوں رہنماوں نے شام کی موجودہ صورتحال پر بھی گفتگو کی، اور امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ شام کو دہشت گردی کا اڈہ یا اپنے پڑوسیوں کے لیے خطرہ نہیں بننا چاہیے، اور شام میں استحکام لانے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ روبیو نے اردن سے 75 سالہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔اس کے ساتھ ہی، امریکی وزیر خارجہ نے کینیا اور کانگو کے صدور سے بھی بات کی اور ان دونوں ممالک کے ساتھ موجودہ عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے برطانوی، جرمن اور فرانسیسی وزرائے خارجہ سے بھی فون پر بات چیت کی، جس میں بین الاقوامی سیاست اور عالمی سیکیورٹی کے امور پر بات کی گئی۔
روبیو نے مراکش اور ڈومینیکن ری پبلکن کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطہ کیا اور باہمی دلچسپی کے مختلف مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی۔اس ساری بات چیت کا مقصد بین الاقوامی تعلقات میں تعاون کو فروغ دینا اور خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بڑھانا تھا۔ روبیو کے ان اقدامات سے عالمی سطح پر امریکہ کی سفارتی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں موجود بحرانوں کے حوالے سے۔