اسلام آباد ہائی کورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی جیل میں سہولتوں کی درخواست پر سماعت کی گئی، جس کی صدارت چیف جسٹس عامر فاروق نے کی۔
عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل غفور انجم عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات اور بچوں سے فون کال پر بات کرنے کی اجازت کی درخواست کی گئی تھی۔سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو کیٹیگری بی کے تحت تمام ضروری سہولتیں دی جا رہی ہیں، جیسے کہ ٹی وی، اخبارات، باورچی اور ملاقات کی سہولت۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتے میں دو ملاقاتیں مخصوص ہیں، تاہم، تین یا چار ملاقاتیں بھی کروا دی جاتی ہیں۔عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پرائیویٹ ڈاکٹرز کو ملنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن ان کی درخواست تھی کہ عمران خان کو بھی صحت کی دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں۔
اس پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ جیل میں بہترین صحت کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور روزانہ ڈاکٹرز چیک اپ کرتے ہیں۔اس کے علاوہ، سپرنٹنڈنٹ جیل نے بیرون ملک فون کالز کی اجازت نہ دینے کی وجہ یہ بتائی کہ جیل میں ہزاروں قیدی ہیں اور انٹرنیشنل کالز کی اجازت نہیں ہے۔ جیل رولز کے مطابق، اگر اجازت دی جاتی ہے تو دیگر قیدی بھی یہ مطالبہ کر سکتے ہیں، جو عدالتی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔عدالت نے تمام بیانات سننے کے بعد عمران خان کی درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی اور جیل میں سہولتیں فراہم کرنے کے معاملے پر مزید مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔