خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع پشاور، بنوں، ہنگو اور کوہاٹ میں پولیس چوکیوں پر دہشتگردوں کی جانب سے حملوں کے واقعات پیش آئے، جن میں مجموعی طور پر دو پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد زخمی ہو گئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث متعدد حملے ناکام بنا دیے گئے۔
پولیس کے مطابق پشاور میں تھانہ بڈھ بیر اور متنی کی سرہ خوارہ پولیس چوکی پر دستی بموں سے حملے کیے گئے۔ پہلے حملے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا جبکہ دوسرے حملے میں ایک اہلکار سمیت سات افراد زخمی ہوئے۔ اس طرح دونوں واقعات میں مجموعی طور پر آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ سرہ خوارہ چوکی میں اس وقت جرگہ جاری تھا جب حملہ کیا گیا۔واقعے کے فوراً بعد پولیس نے بھرپور جوابی کارروائی کی، جس پر حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ادھر بنوں میں کاشو پل پولیس چوکی پر بھی دہشتگردوں نے حملہ کیا جسے پولیس نے ناکام بنا دیا۔ اسی طرح کنگر پولیس چوکی پر بھی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، تاہم پولیس کی مؤثر جوابی کارروائی کے باعث حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی کے مطابق شہر میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ اہم شاہراہوں اور حساس مقامات پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ہنگو میں قاضی تالاب کے مقام پر پولیس چیک پوسٹ پر بھی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، تاہم پولیس کے فوری ردعمل سے حملہ آور پسپا ہو گئے۔ مزید برآں کوہاٹ میں بھی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر پولیس چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جا سکے۔