بنوں : خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ڈرون کے ذریعے دو مختلف مقامات پر حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے۔
حملوں کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
پولیس اسٹیشن اور رہائشی مکان نشانہ
پولیس کے مطابق پہلا حملہ میریان پولیس اسٹیشن پر جبکہ دوسرا ہوید کے علاقے میں ایک رہائشی گھر پر کیا گیا۔ دونوں حملے مبینہ طور پر مسلح افراد کی جانب سے کیے گئے، جو کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈرون کے ذریعے کیے گئے حملے تصور کیے جا رہے ہیں۔
جانی و مالی نقصان
حکام کے مطابق رہائشی گھر پر ہونے والے حملے میں ایک خاتون جان کی بازی ہار گئی، جبکہ تین افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کی حالت کے بارے میں اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ دو افراد کی حالت نازک ہے۔
پولیس کی کارروائی اور خدشات
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرون بہت اونچائی پر پرواز کر رہا تھا، اسی لیے اسے نشانہ نہیں بنایا جا سکا۔ تاہم حملے کے فوراً بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق:"یہ حملے کسی مقامی شدت پسند گروہ کی جانب سے کیے جانے کا خدشہ ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں اور جلد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔"
علاقے میں خوف کی فضا
ڈرون حملوں کے بعد علاقہ مکین شدید خوف میں مبتلا ہیں اور سکیورٹی فورسز نے مزید حملوں کے خدشے کے پیش نظر اضافی نفری تعینات کر دی ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کے پہلے حملے ہیں، جس سے شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔حکومتی سطح پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ سیکیورٹی اداروں کے لیے نئے چیلنج کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔