پاکستان کی مسلح افواج نے حالیہ دنوں میں جاری آپریشن غضب للحق کے تحت افغان سرحد کے مہمند سیکٹر میں کارروائیاں کی ہیں۔
اس آپریشن کا مقصد افغان سرحدی علاقے میں دراندازی کو روکنا، افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا جواب دینا، اور ملک کی سرحدی سالمیت کو برقرار رکھنا ہے۔ کارروائی کے دوران، پاکستان کی افواج نے مہمند میں موجود افغان طالبان کے چند اہم پوسٹوں کو نشانہ بنایا اور انہیں مکمل طور پر تباہ کیا۔ یہ کارروائی دراندازی کے متعدد واقعات کے بعد کی گئی، جن میں افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کی سرزمین میں داخل ہونے اور بلا اشتعال فائرنگ کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ اس سے قبل بھی پاکستان کی فوج نے اپنی سرحدی حدود کے اندر کارروائیاں جاری رکھی ہیں تاکہ سرحد کی نگرانی اور دفاع کو مضبوط بنایا جا سکے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستانی فوجی کارروائیاں عالمی قوانین اور اصولوں کا احترام کرتے ہوئے صرف فوجی ہدف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن مکمل طور پر قانون کے دائرے میں رہ کر انجام دیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے غیر متعلقہ یا شہری ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔
پاکستانی فوج کا یہ موقف ہے کہ یہ کارروائیاں ملک کی سلامتی، سرحدی سالمیت، اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ اس کا مقصد دہشتگردی، دراندازی اور بلا اشتعال حملوں کی روک تھام ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن جاری رہے گا، جب تک کہ تمام مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہوں اور سرحدی حدود کو محفوظ نہ بنایا جا سکے۔ مجموعی طور پر، یہ صورتحال پاکستان کے قومی سلامتی اور سرحدی دفاع کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، اور پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی صورت میں اپنے ملک کی سرزمین کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔