کراچی:امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی کے ناقص ٹرانسپورٹ سسٹم اور حکومتی ناکامیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل ایک وزیر ڈبل ڈیکر بس کا اعلان کر رہے تھے، پہلے سنگل تو چلا کر دکھائیں۔
کراچی کو 15 سے 17 ہزار بسوں کی ضرورت ہے
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کو کم از کم 15 سے 17 ہزار بسوں کی ضرورت ہے، لیکن حکومت اس بنیادی مسئلے کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین حکومتیں بدل چکی ہیں، لیکن گرین لائن منصوبہ اب تک مکمل نہیں ہوسکا۔
کراچی کا انفرااسٹرکچر تباہ، بڑے منصوبے تاخیر کا شکار
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح تباہ ہوچکا ہے، شہر میں کئی بڑے ترقیاتی منصوبے التوا کا شکار ہیں۔ انہوں نے کے فور (K-IV) اور ایس تھری (S-III) منصوبوں کی تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ شہری روزانہ ڈمپرز اور واٹر ٹینکرز کی دہشت کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
کرپشن اور نااہلی کا امتزاج سندھ حکومت ہے
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ سندھ حکومت کرپشن اور نااہلی کا مجموعہ ہے، جو عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے صرف زبانی دعوے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بڑے ترقیاتی منصوبے 10، 10 سال تک مکمل نہیں ہو پاتے، جس سے حکومتی بدانتظامی اور غیر سنجیدگی واضح ہوتی ہے۔
جماعت اسلامی رمضان کے بعد ملین مارچ کرے گی
انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی رمضان کے بعد کراچی کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے ایک بڑے "ملین مارچ" کا انعقاد کرے گی تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکے اور عوام کے حقوق کے لیے موثر آواز بلند کی جا سکے۔
ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے کراچی کا بیڑا غرق کردیا
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے کراچی کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں جماعتیں عوام کے سامنے ایک دوسرے کے خلاف بیانات دیتی ہیں، لیکن حقیقت میں نورا کشتی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتیں اپنی ہی پالیسیوں کی زد میں آچکی ہیں اور عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہیں۔
بجلی کے بلوں میں ناجائز ٹیکس ختم کیے جائیں
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام پر عائد غیر ضروری اور ناجائز ٹیکسوں کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرے گی اور اس وقت عوامی اور مزدور کمیٹیاں تشکیل دے رہی ہے تاکہ مہنگائی، کرپشن اور حکومتی نااہلی کے خلاف منظم جدوجہد کی جا سکے۔