چودھری فرحان شوکت ہنجرا
لیجئے جناب اہل پنجاب عوام کی جان و مال عزت کے یقینی تحفظ کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے، شوٹرز۔قبضہ مافیا۔ڈکیتی۔ذیادتی۔قتل جیسے آرگنائزڈ کرائم کے خاتمے کیلئے "پنجاب کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی منظوری دے دی ہے جو جلد آپریشنل ہو کر اپنے فرائض کی ادائیگی شروع کر دے گا اس ادارے کا سربراہ ایڈیشنل آئی جی ہوگا جبکہ تین ڈی آئی جیز۔ہر ڈویڑنل ہیڈ کوارٹر میں ایس ایس پی،ایس پی اور ہر ضلع میں ڈی ایس پی رینک کا افسر تعینات ہوگا۔کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سات بڑے ارگنائزڈ کرائم میں کمی کیلئے خدمات سر انجام دے گا محکمہ پولیس کیاس نئے دلہے ڈیپارٹمنٹ کیلئے جدید بلڈنگز۔گاڑیوں جدید آلات اور پنجاب پولیس سے 4258 افسروں و اہلکاروں پر مشتمل ہوگا جبکہ 2258 افسر و اہلکار فوری طور پر سی سی ڈی ٹرانسفر کیے جا رہے ہیں۔
کون نہیں چاہتا کہ عوام کے جان و مال عزت کا تحفظ ہو ریاست ریاستی ادارے حکومت کا آئینی قانونی اخلاقی فرض عین ہے کہ وہ عوام کو تحفظ فراہم کرے اور جرائم کا خاتمی اور جرائم پیشہ عناصر کا قلع قمع کرے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سے ملتا جلتا ہے سی ٹی ڈی دہشت گردی کے تدارک دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے بنایا گیا ہے اور ملک کے ہر صوبے میں فعال ہے اور محکمہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں سے افسران و اہلکار اپنا قومی فرض ادا کر رہے ہیں لیکن پنجاب میں نئے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ بنانے سے یہ بات اخذ کی جا رہی ہے کہ پنجاب حکومت پنجاب پولیس کی کارکردگی سے مطمئن دکھائی نہیں دیتی اگرچہ سی سی ڈیپارٹمنٹ پنجاب پولیس ہی کی ایک شاخ ہے لیکن یہ خدشات نجانے کیوں ابھر رہے ہیں کہ اس سے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں اختیارات کی روش نہ شروع ہو جائے ہر کوئی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے دوسرے ڈیپارٹمنٹ کو زچ کرنا نہ شروع کردے
جن سات جرائم کے خلاف یہ نیا ڈیپارٹمنٹ بنایا گیا ہے ماضی میں انہی جرائم کے خاتمے کیلئے محکمہ پولیس میں "ایلیٹ فورس پولیس" کا ڈیپارٹمنٹ تشکیل دیا گیا تھا ایڈیشنل آئی جی،ڈی آئی جیز۔ایس ایس پیز اور اضلاع میں افسران و اہلکاروں کی تعیناتی ہوئی تھی اس ایلیٹ فورس کے قیام سے پیشہ ور قاتلوں۔اشتہاریوں۔ڈکیتوں۔کو کیفرو کردار پہنچایا گیا عوام نے سکھ کا سانس لیا لیکن پھر وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے کہ آہستہ آہستہ اس ایلیٹ فورس کو اضلاع سے واپس بلا لیا گیا اور اب یہ ایلیٹ پولیس فورس ارباب اختیارات و اقتدار اور دیگر اشرافیہ کو تحفظ دینے کیلئے "پروٹوکول و پروٹیکشن فورس بن کر رہ گئی ہے اس فورس کی مینجمنٹ۔ٹریننگ سٹرکچر آب و تاب سے موجود ہے لیکن مقصد عوام نہیں بلکہ صرف حکمران،سیکورٹی سرکاری اداروں پولیس افسران و دیگر وی آئی پیز کو سیکورٹی فراہم کرنے میں ہے کیونکہ یہ طبقات محفوظ ہیں تو سب ٹھیک ہے پولیس ڈیپارٹمنٹ کے سرخیل سابق آئی جی موٹر وے پولیس جو پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں محکمہ پولیس میں اپنے فرائض منصبی انتہائی ایمانداری دیانت داری جانفشانی سے ادا کرکے عزت و تکریم سے ریٹائرڈ ہو چکے جنہیں دنیا ذوالفقار احمد چیمہ کے نام سے جانتی ہے اپنی سروس کے دوران برملا اظہار کر تے رہے کہ ایلیٹ پولیس فورس کو اس کے قیام کیاصل مقصد اور فرائض منصبی پر واپس بھیجا جائے لیکن کسی حکومت اور محکمہ پولیس پنجاب کے سربراہ سمیت ان کے موقف کو سنی ان سنی کر دیا نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ پنجاب کے دور دراز اضلاع میں سماج دشمن عناصر کا راج قائم ہو چکا ہے کسی ناخوشگوار واقعے کے بعد حکمرانوں اور ارباب اختیارات کے ساتھ پروٹوکول ہوٹر بجاتے اور اسلحہ کے ساتھ پوزیشن لیتے میڈیا پر جب عوام ایلیٹ پولیس فورس کو دیکھتے ہیں تو عوام برملا کہتے ہیں ہون گھونگلاں توں مٹی چاڑن آئے نیں اس میں ایلیٹ فورس کے جوانوں کا کوئی قصور نہیں قصور وار ہیں تو محکمہ پولیس پنجاب جو اپنے ادارے کو نہیں بچا سکی سارے وسائل ان پر خرچ تو کیے جا رہے ہیں لیکن اس کا ثمر اشرافیہ حاصل کر رہی ہے پنجاب پولیس کے سربراہ بتائیں کہ ایلیٹ پولیس فورس تھانوی سے نکل کر یہاں یہاں آگء ہے
یقین طور پر ہم نئے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے قیام کیلئے دعا گو ہیں کہ یہ اپنے ٹارگٹ کو اچیو کرے لیکن ماضی کا عوامی آڈٹ بھی ضروری ہے کہ جرائم کے خاتمے کیلئے پنجاب پولیس ،سی آئی اے۔جسے آرگنائزڈ کرائم ڈیپارٹمنٹ کہتے ہیں اسی طرح سی آئی ڈی۔سپیشل برانچ۔یہ سیکورٹی ادارے بھی حکومت پنجاب اور پنجاب پولیس کے ماتحت یا برادر محکمے کے طور پر امور سر انجام دے رہے ہیں اگر یہ ادارے غیر جانبداری ہر قسم کے دباؤ سے آزاد کام کرتے تو ہر نئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی انہی ڈیپارٹمنٹس میں جدیدیت لائی جاتی
اس وقت صوبہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہو چکی ہے پنجاب کی شاہراہوں میں عوام الناس کے سفر کو محفوظ کرنے کیلئے پنجاب ہائی ویپیٹرولنگ پولیس ماضی میں جس کی بڑی شاندار کارکردگی کی حامل رہی ہے عوام پنجاب کے دور دراز اضلاع کی مین پائی ویز۔رابطہ اوردیہی روڈز پر بلا خوف و خطر سفر کرنے کو ترجیح دینے لگے تھے لیکن پنجاب ہائی ویپیٹرولنگ پولیس کو بھی نظر لگ گئی کیونکہ سڑکوں پر پیٹرولنگ اس لیے نہیں ہو رہی کہ اس فورس کے زیر استعمال گاڑیوں کو روزانہ صرف 6سے 7لٹر ڈیزل فراہم کیا جا رہا ہے مجھے بتائیں کیا شاہراہوں پرخاک پیٹرولنگ ہوگی پنجاب پولیس کے آئی جی سے لے کر تھانے ے ایس ایچ او کی سرکاری گاڑیوں کو بھی روزانہ اتنا ہی ڈیزل فراہم کیا جا رہا ہے؟
خدارا آئی جی پنجاب صاحب پیٹرولنگ پولیس کو شاہراہوں پر پیٹرولنگ کرنے کیلئے گاڑیوں کی فلنگ کیلئے نیا میکنزم ترتیب دیں اور ایلیٹ فورس کو اس کے اصل مشن پر دوبارہ تھانوی کی سطح پر بھجوائیں عین نوازش ہوگی