فرخ ریاض بٹ
تاریخ گواہ ہے جب برصغیر پاک و ہند میں British Raj تھا تو سب سے پہلے برطانیہ نے Sub Continent میں ریلوے کا نظام بچھایا ہندوستان میں شملہ پہاڑ پر بے نظیر ریلوے کا جال بچھایا یعنی Toy Train چلائی جس پر شروع میں چائے لکڑی کوئلہ مرغیاں بکرے ان کا کاروبار چلتاتھا بعد میں اور اب تک بھارت اس Toy Train سے کہ جو امرتسر سے شملہ پہاڑی کے درمیان چل رہی ہے اربوں روپے سالانہ سیروسیاحت سے کمارہا ہے بالکل اسی طرح بھارت کے دیگر انتہائی بُلند ترین پہاڑوں خاص کر جموں کشمیر کوہ ہمالیہ کے بلند ترین برف پوش پہاڑوں وادیوں جنگلات میں ریلوے کا مضبوط اور کامیاب جال بچھایا جو آج بھی بھارت میں کامیابی سے رواں دواں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آج بھارت میں تجارت اور سیاحت99فیصد ریل کے ذریعے جاری ہے اس کے علاوہ بھارت میں99فیصد عام لوگ ایک شہر سے دوسرے شہر بائی ریل سفر کر رہے ہیں۔ اس وقت بھارت میں Toy Train ، Metro Train، Double Daker Train، Narrow Guage، Broad Guage، Meter Guage، Standard Guage اور سڑکوں کے درمیان Tram Trainsکامیابی سے رواں دواں ہیں اور بھارت سالانہ اربوں روپے کما رہا ہے۔ اس طرف ہمارے پیارے پاکستان میں بلوچستان کوئٹہ میں بلند و بانگ پہاڑوں میں جدید طرز کی بے نظیر سرنگیں تعمیر کیں علاوہ اس کے راولپنڈی پشاور لنڈی کوتل سیکشن اور چمن میں شیلا باغ پر Kojak Tunnel جو کہ ساڑھے چار میل لمبی ہے برطانیہ دور کا نادر نمونہ ہے اگر برطانیہ مزید 20سال Sub-continent میں رہ جاتے تو یقینا برطانیہ ، راولپنڈی سے حویلیاں سے ایبٹ آباد سے مانسہرہ اور درگئی سے کالام سکردو چترال قلاش گلگت ہنزہ سے قراقرم سے چائنہ دوسری طرف مانسہرہ سے بالاکوٹ سے کاغان ناران بلتستان اورK2 تک ریلوے نظام بچھا دیئے اس طرف راولپنڈی سے اسلام آباد سے کوہ مری باغ اور آزاد کشمیر تک ریلوے نظام بچھانے کا پختہ ارادہ تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی جدوجہد سے راولپنڈی سے اسلام آباد تک بے نظیر ریلوے لائن بچھائی گئی اب اگر وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور صدر پاکستان آصف علی زرداری توجہ دیں تو حویلیاں سے ایبٹ آباد ساڑھے چھ میل فاصلہ ہے تک ریلوے لائن بچھائی جاسکتی ہے راستے میں کوئی بلند پہاڑ نہیں دریا نہیں بس چھوٹی چند پلیاں برساتی پانی کے نکاس کے لیے تعمیر ہوں گے۔
میری موجودہ CEOریلوے عامر علی بلوچ سے بات ہو چکی انہوں نے وعدے کیے کہ ناروال سے شکر گڑھ سے چک امرو کے درمیان باقاعدہ ریلوے نظام جلد بحال کریں گے اگرچہ راستے میں قبضہ مافیا قابض ہیں وہ ھی ریلوے اعلیٰ حکام کی غفلت کے باعث ۔ میری گزارش ہے کہ پاکستان ریلوےFWOسے مدد لے بلکہ ریلوے ورکرز محنت کش سب مل کر FWO کے جوانوں انجینئرز کے ساتھ مل کر نارووال سے شکر گڑھ چک امرو تک ریلوے لائن بحال کریں چک امرو دفاعی لحاظ سے بہت اہم اسٹیشن ہے دوسری طرف نوشہرہ سے مردان سے درگئی تک ریلوے لائن کی مرمت کاکام FWO اورKPK صوبائی حکومت سے مل کر یہ منصوبہ مکمل کریں اور مردان سے چارسدہ ریلوے لائن بھی مرمت کر کے پسنجر ٹرین سسٹم بحال کریں۔ آج کا موضوع تھا اور ہے یعنی امریکہ صدر مسٹر ٹرمپ دیر مت کریں جلد از جلد افغانستان کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں۔ یقینا دوحہ میں یہ ایک انوکھا فیصلہ تھا کہ افغانستان مکمل طور پر شدت پسند ملاؤں کو سونپ دیا جائے جب کہ جب تک امریکی افواج American Troops افغانستان میں رہے تو یقین جانئے افغانستان کی قسمت بدلنے لگی امریکی ڈالروں کی آمد سے افغان کرنسی کا وزن بڑھنے لگا افغان نوجوانوں ، لڑکے لڑکیوں مرد خواتین بچوں میں ایک روشنی کی کرن اُجاگر ہونے لگی۔ تعلیمی ادارے سب کے لیے برابر کھل گئے۔ لڑکیاں لڑکے آزادی سے اسکول کالج یونیورسٹی جانے لگے ۔ محفل میلاد میں آیا کہ ہر رنگ مذہب کے لوگ شیعہ سنی بریلوی مزارات میں آنے جانے لگے محفل میلاد ﷺ منعقد ہونے لگیں۔ مجالس کی آزادی تھی خواتین بھی کاروبار کے لحاظ سے تعمیرات ترقی و خوشحالی کی جانب بڑھنے لگیں۔ امریکی افواج نے کابل سے روس کے درمیان ریلوے نظام متعارف کروایا اور روس اور افغانستان کے درمیان مال گاڑیوں کی سروس شروع ہوئی دوسری طرف امریکی افواج نے کابل سے پاکستان لنڈی کوتل سیکشن تک امریکی ڈالروں سے ریلوے لائن بچھانے کا پروگرام مرتب کیا دوسری طرف امریکہ نے قندھار سے چمن سائیڈ پر ریلوے نظام بچھانے کا پُرامن ریل منصوبے تھے جو امریکیوں نے مکمل کرنے تھے لیکن افسوس صد افسوس کہ اچانک عالمی سطح پر بڑے گھناؤنے خوفناک منصوبے بنا کر اچانک وہ افغانستان کہ جو امریکی فوجیوں کی مدد سے نئی تعمیرات ترقیوں و خوشحالی کی جانب رواں دواں تھا پُرامن تھا اسے شدت پسندوں کے سپرد کر دیا گیا۔ معاف کرنا آج کا افغانستان کہ جس میں طالبان غالبان ظالمان شدت پسند قابض ہیں یہ نہ تو پاکستان کے لیے خطرہ ہیں بلکہ روس چائنہ اور ایران کے لیے اور امریکہ کے لیے بھی بے حد خطرناک ہیں لہٰذا امریکی مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست ہے کہ وہ موجودہ افغان طالبان کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کی بجائے براہ راست پہلے سے زیادہ امریکی طاقت کے ساتھ افغانستان کا مکمل کنٹرول سنبھال لے جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہے اگر امریکہ اور امریکی صدر Mr. Trump چاہتے ہیں کہ افغانستان تعلیم ، صحت ، تعمیرات اور لڑکے لڑکیاں مرد خواتین بچے خوشحالی کی زندگی گزاریں اور پُر امن رہیں ضرروری ہے کہ امریکہ جتنی جلد ممکن ہو جلد ازجلد افغانستان میں امریکی افواج بھیج دے اور افغانستان کا مکمل کنٹرول سنبھال لے کیونکہ پھر سے افغانستان میں امریکی افواج آنے سے یقینا نئی تبدیلی آئے گی ۔ یہ تبدیلی تعلیم کی اچھی صحت کی اچھے روزگار کی اور پرامن افغانستان کی حقیقی سچی ضمانت ہو گی جو افغانستان کے ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان، ایران، چائنہ اورروس کے لیے بہت اچھا شگون ہو گا۔ (آمین ثم آمین)