فرزانہ اقبال
پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت پنجاب کی جانب سے تیار کردہ "پنجاب کنٹرول آف غنڈہ ایکٹ 2025" کا مجوزہ مسودہ منظر عام پر آ چکا ہے۔ اس قانون کا مقصد ایک ایسے مربوط نظام کو متعارف کرانا ہے جو سماج دشمن عناصر، غنڈہ گردی، بدمعاشی اور خوف و ہراس پھیلانے والے گروہوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی راہ ہموار کرے۔ تاہم، جہاں حکومت اس قانون کو "امن کا ضامن" قرار دے رہی ہے، وہیں انسانی حقوق کے ادارے اور بعض سیاسی حلقے اسے بنیادی آزادیوں کے خلاف ایک ہتھیار تصور کر رہے ہیں۔۔پنجاب میں غنڈہ عناصر کے خلاف سب سے پہلا باقاعدہ قانون "پنجاب کنٹرول آف غنڈہ آرڈیننس 1959" کے نام سے متعارف ہوا تھا۔ اس وقت کا پاکستان بہت مختلف تھا۔ نہ سوشل میڈیا تھا، نہ شہری آبادی اتنی پیچیدہ اور منتشر تھی۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ قانون اپنی افادیت کھو چکا تھا اور اس میں کئی قانونی سقم سامنے آ چکے تھے، جن سے فائدہ اٹھا کر بہت سے جرائم پیشہ عناصر سزا سے بچ نکلتے تھے۔ اب جب کہ سماجی اور ٹیکنالوجیکل ماحول بالکل مختلف ہو چکا ہے، اس قانون کو بھی نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا تھا۔"پنجاب کنٹرول آف غنڈہ ایکٹ 2025" میں کئی سخت شقیں شامل کی گئی۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو جو عوامی امن کے لیے خطرہ ہو، 90 دنوں تک بغیر کسی مقدمے کے حراست میں رکھ سکیں۔ اس حراست میں توسیع کے لیے صوبائی سطح پر ایک "جائزہ بورڈ" تشکیل دیا جائے گا جس کی سربراہی لاہور ہائی کورٹ کے جج کریں گے۔مشتبہ افراد کے شناختی کارڈ، پاسپورٹ، اور ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ اور نو فلائی لسٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں تاکہ وہ ملک چھوڑ کر فرار نہ ہو سکیں۔غنڈہ عناصر کی جائیداد کو ضبط کیا جا سکے گا، اور ان کے بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنے کے لیے وفاقی اداروں سے رابطہ کیا جائے گا۔دہشت گردی، سنگین جرائم اور غنڈہ عناصر کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی، جن کی نگرانی ریٹائرڈ ججز کریں گے۔ضلعی، ڈویڑنل اور صوبائی سطح پر انٹیلیجنس کمیٹیاں بنائی جائیں گی جو امن و امان کی صورتحال کی نگرانی کریں گی اور مشکوک افراد کے خلاف سفارشات پیش کریں گی۔کمیٹیوں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایسے تمام مواد کو ضبط کریں جو نفرت انگیزی، فرقہ واریت یا دہشت گردانہ سوچ کی ترویج کرتا ہو۔پنجاب حکومت کا کہناہے کہ اس قانون کا مقصد کسی فرد یا گروہ کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ صوبے میں قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ترجمان کے مطابق، ماضی میں ایسے بہت سے عناصر نے قانونی سقم کا فائدہ اٹھا کر خود کو ناقابلِ گرفت سمجھ لیا تھا، جس سے معاشرے میں بدامنی کو فروغ ملا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے جرم سے پہلے اقدام کیا جا سکے گا، تاکہ بڑے سانحات کو روکا جا سکے۔ادھر انسانی حقوق کے علمبردار اور سول سوسائٹی کے نمائندگان اس قانون کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ بغیر کسی مقدمے کے 90 دن کی حراست، اور شناختی دستاویزات کی معطلی جیسے اقدامات آئین میں دی گئی بنیادی انسانی آزادیوں کی خلاف ورزی ہیں۔بعض حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ قانون سیاسی مخالفین کو دبانے اور آوازیں خاموش کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب انتخابی فضا گرم ہو۔ اگرچہ جائزہ بورڈ تشکیل دینے کی بات کی گئی ہے، مگر اس کا دائرہ کار اور اختیار واضح نہیں، جو کہ اختیارات کے غلط استعمال کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ انٹیلیجنس کمیٹیوں کے فیصلوں میں شفافیت اور احتساب کی کمی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔اگر اس قانون پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کیا گیا، تو یہ یقیناً صوبے میں امن و امان کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ منظم جرائم، بھتہ خوری، قبضہ مافیا، اور سیاسی و مذہبی شدت پسندی جیسے مسائل پر قابو پانے کے لیے یہ ایک طاقتور آلہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا استعمال ذاتی انتقام، سیاسی مخالفت یا نسلی و مسلکی بنیادوں پر کیا گیا، تو یہ قانون معاشرے میں انتشار، خوف، اور بنیادی حقوق کی پامالی کا باعث بن سکتا ہے۔پنجاب کنٹرول آف غنڈہ ایکٹ 2025 ایک ایسا دو دھاری تلوار ہے جو ایک طرف امن و قانون کی بالادستی قائم کر سکتی ہے تو دوسری طرف بنیادی انسانی آزادیوں پر کاری ضرب بھی لگا سکتی ہے۔ اس قانون کی کامیابی کا انحصار اس کے نفاذ میں شفافیت، عدالتی نگرانی اور سیاسی غیر جانبداری پر ہے۔ قانون، جب قانون رہے تو معاشرہ محفوظ ہوتا ہے، لیکن جب قانون، طاقتور کا ہتھیار بن جائے تو وہی معاشرہ ظلمت کی طرف ڈھلکنے لگتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ اس قانون پر عملدرآمد انصاف، میرٹ اور آئین کی روشنی میں کیا جائے، تاکہ نہ صرف غنڈہ عناصر کی سرکوبی ممکن ہو بلکہ ایک پرامن اور محفوظ پنجاب کا خواب بھی شرمند? تعبیر ہو۔