نیا عہد، نیا سفر

 فاریہ ملک
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقت کے توازن میں تبدیلی آتی ہے تو نئی صف بندیاں جنم لیتی ہیں۔ کبھی روم اور فارس کی سلطنتیں آمنے سامنے تھیں، کبھی مغرب اور سوویت یونین کا ٹکراو? رہا۔ آج پھر تاریخ ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ اور اسی پس منظر میں پاکستان اور سعودی عرب کا حالیہ معاہدہ محض دو ملکوں کی دستاویز نہیں بلکہ ایک نئے عہد کا آغاز دکھائی دیتا ہے۔یورپی تجزیہ کار حیران ہیں، مغربی میڈیا فکر مند ہے اور عالمی طاقتوں کے ایوانوں میں سرگوشیاں گونج رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ ایک نئے ورلڈ آڈر اور ایک ممکنہ مسلم بلاک کی پہلی اینٹ ہے۔
پاکستان اور سعودیہ: رشتہ ایمان کا، ایقان کا
پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ صرف کاغذی سفارت کاری کا نہیں بلکہ دلوں کی دھڑکنوں کا ہے۔ ایک طرف سرزمینِ حجاز ہے جہاں بیت اللہ اور روضہ رسول  کی روشنی جگمگاتی ہے، دوسری طرف پاکستان ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا۔ جب یہ دونوں قومیں ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھتی ہیں تو یہ اتحاد صرف سیاسی نہیں بلکہ روحانی بھی محسوس ہوتا ہے۔

نئی سیاست، نیا عزم
دنیا کی طاقتیں اب بکھر رہی ہیں۔ امریکہ اپنی گرفت کھو رہا ہے، یورپ داخلی بحرانوں میں الجھا ہوا ہے اور مشرقِ وسطیٰ نئے خواب دیکھ رہا ہے۔ ایسے میں یہ معاہدہ ایک سوال بن کر ابھرا ہے:کیا مسلم دنیا اب اپنی سمت خود متعین کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان کی ایٹمی طاقت، افرادی قوت اور جغرافیائی اہمیت…
سعودی عرب کی دولت، وسائل اور روحانی مرکزیت…
یہ امتِ مسلمہ کے وہ دو ستون ہیں جو اگر مضبوطی سے کھڑے ہو جائیں تو پوری دنیا کا منظرنامہ بدل سکتے ہیں۔

امکانات کی کرن

سوچئْ… اگر سعودی سرمایہ کاری پاکستانی ہنر اور دفاعی تجربے سے جڑ جائے… اگر مسلم ممالک توانائی، تجارت اور دفاع میں ایک دوسرے کے سہارے کھڑے ہو جائیں… اگر حرمین شریفین کا تحفظ صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک امت کی اجتماعی ذمہ داری بن جائے…
تو کیا یہ ایک نئی صبح کا آغاز نہیں ہوگا؟

خدشات کا سایہ
یقیناً یہ سفر آسان نہیں۔ طاقتور مغربی قوتیں کبھی نہیں چاہیں گی کہ مسلم دنیا ایک قوت بن کر ابھرے۔ اندرونی اختلافات، فرقہ واریت، اور سیاسی کمزوریاں بھی رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب قومیں خواب دیکھتی ہیں اور عزم کرتی ہیں تو رکاوٹیں ریزہ ریزہ ہو جایا کرتی ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ صرف آج کا نہیں، آنے والے کل کا اشارہ ہے۔ یہ امت کے بکھرے ہوئے شیرازے کو جوڑنے کی ایک کوشش ہے۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہو گئی تو آنے والے دنوں میں ایک نیا مسلم بلاک دنیا کے نقشے پر ابھر سکتا ہے، ایک ایسا بلاک جو امت کو عزت، وقار اور خودمختاری لوٹا سکے۔یہ محض ایک معاہدہ نہیں، یہ تاریخ کے صفحات پر لکھی جانے والی وہ تحریر ہے جسے آنے والی نسلیں پڑھیں گی اور کہیں گی:
‘‘یہ وہ لمحہ تھا جب امت نے بیداری کا پہلا قدم اٹھایا تھا۔’’