طلعت بٹ
نفسیات اور عمرانیات کے اصول کے مطابق انسان ہمیشہ سے کسی معجزہ یا کسی روحانی پیشوا کے انتظار میں عملی طور پر لکھتے ہوئے ملتے ہیں مگر فطرت کا تقاصا اور قدرت کا مزاج انسانی زندگی اور ماحولیات پر مکمل گرفت رکھتے ہوئے صدیوں سے کسی انتظار میں ہے کہ کب یہ کرشمہ حیات سکوت پزیر ہو اور اس کی جگہ کوئی دوسرا کارساز نظام حیات عمل پیرا ہو، مگر آنکھ جو دیکھتی اور کان جو سنتے ہیں وہ خواب بھی ہو سکتا ہے۔ حقیقی زندگی کا دارو مدار کسی انجان اور کار فرما سٹم میں ملبوس خاموش اور ساکت دکھائی دیتا ہے۔ میری مراد کارخانہ حیات سے ہے جس میں انسان نے انسان سے ہی سیکھ کر انسان کو ہی منتقل کر دیا۔ مگر ہمارے یہاں،انسان انسان کو کچھ منتقل کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے چھین رہے ہیں، یہاں تک کہ صحت سے مطلق تمام تر اشیائے ضروریاء میں ملاوٹ ہو رہی ہے، جو حفظان صحت کے اصولوں کو روندتے ہوئے تیزی سے ہماری آنے والی نسلوں کے لئے کسی بڑی آفت کا پیش خیمہ ہے، جیسے دودھ بچوں کے پیدا ہونے سے لیکر جوان اور بڑھاپے تک اسکی خوراک کیلئے ضروری ہے ، لیکن ہمیں مجبوراً ملاوٹ اور کیمیکل والا دودھ ہی استعمال کرنا پڑتا ہے جس سے کہ معدے، جگر، دماغ کے کینسر اور ہڈیوں کی بیماریاںبہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جو آنے والی نسلوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر مفلوج اور آگے بڑھنے سے روک رہی ہیں، اس طرح کھانے پینے کی تمام تر اشیا ہی انسان دشمن اور پیسے کے پجاری مافیا کے ہاتھوں میںہے، جو زیادہ منافے کی خاطر انسانی زندگیوں کے ساتھ گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں، یہاں سب سے زیادہ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ انکی پشت پناہی بھی ایسے لوگوں کو لگام ڈالنے والے لوگ ہی کر رہے ہیں جو کہ ملاوٹ اور دو نمبری کرنے والوں سے بھی پڑا جرم ہے شاید دوسری طرف آپکی تو جہ محکمہ ہیلتھ کی جانب مبذول کروانا بھی یہاں ضروری سمجھتا ہوں جس میں کالی بھیڑوں نے اپنے پنجے پیسے اور اپنے سیاسی آقاؤں کے آشیر باد سے گاڑے ہوئے ہیں اور وہ بھی خاموش دہشت گردی میں مصروف ہیں جن کو کوئی پوچھتا ہے اور نہ پکڑتا ہے، چونکہ انکی شاخیں بھی کسی نہ کسی تناور درخت سے جاملتی ہیں دوا ساز اداروں کو لائسنس دیتے وقت شاید انکی نیک گراؤنڈ کو دیکھا جاتا ہے نہ تصدیق کی جاتی ہے ، بلکہ سیاسی اثر ورسوخ کا حامل یہ ابھی اپنے تعلقات اور پیسے کے بل بوتے پر انسانی زندگیوں سے کھلواڑ میں مصروف ہیں، بلکہ جان بچانے والی دو نمبر اور غیر معیاری ادویات کی صورت میں بیمار اور پریشان حال عوام میں موت بانٹتے پھر رہے ہیں، جس طرف نظر اٹھی عجیب عالم دیکھنے کو
ملتا ہے، یہ کیسا ماحول ہے جہاں پر ہسپتالوں میں مریض زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے کیونکہ اصل دوا میسر نہیں موت کو تو فقط اک بہانہ چاہی ہوتا ہے جبکہ زندگی دعا یا دوا کی متلاشی ہوتی ہے لیکن حوس ولالچ کے مارے اس مافیا کی وجہ سے مرنے والا انسان سسک سسک کر اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے محسوس تو یوں ہوتا ہے کہ ادویات اور خوراک کے مکالموں میں بیٹھے دشمن نما مسیحاؤں کی نظر میں زندگی کی کوئی قدر قیمت ہی نہیں، بہر حال سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی غرض سے جانے والے بیشتر لوگ لاش کی صورت میں ہی واپس آتے ہیں، پورے ملک گورشوت اور بددیانتی نے گھیر رکھا ہے، آپ کسی بھی شعبہ میں احتساب کی نظر سے جانچ پڑتال کریں تو معلوم ہوگا کہ کسی بھی شخص کوکسی انسان پر ترس نہیں آتا اور کھلے عام رشوت اور چور بازاری کا ماحول گرم ہے اور آپ مجبوری سے وہ سب کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں جس کی واضح مثال یہ ہے کہ ضمیر فروشی سے بھی کچھ آگے درندہ صفت لوگ بڑھ جاتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ ان اداروں میں اسیشن میں ناکام ہونے والے نا تجربہ کار قریبی لوگوں کو سیاسی بنیادوں پر کسی نہ کسی ادارے کا چیئرمین لگا دیا جاتا ہے، جو کہ اداروں میں اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے میرٹ سے ہٹ کر نئی بھرتیاں کر لیتے ہیں، جو انکے کارخاص کا کام سر انجام دیتے ہیں، اسی طرح عدالتوں کو لے لیں وہاں بھی فیصلہ کا سالوں سال انتظار کرنا پڑتا ہے اور رشوت کو تقویت ملتی ہے، آج ہر کوئی اس سسٹم کو اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کر سکتا ہے، وکلا اور اعلام فروش اپنی من مانی کرتے ہیں اور آپ یہ سوچیں کہ جس عدالت کے سامنے پچاس روپے کا انعام دوسو میں فروخت ہوتا ہو وہ عدالت کس قسم کا انصاف مہیا کرے گی، میرا کسی جرم کی طرف اشارہ کرنا کسی بھی شخص کو بدنام کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ میرا کام تو ریاست میں موجود نا کام اداروں پر نقطہ مینی ھیتاکہ بے سکون معاشی عدم استحکام کی شکار اس عوام کو آگاہی کی طرف لایا جا سکے، آج یہ دیکھ اور سوچ کر روح کانپ اٹھتی ہے کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والی اس ریاست مدینہ میں لوگ قسم پرسی اور بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ اشرفیا اور سیاست دان مزے کی ، ہسپتالوں کی حالت زار پر ترس آتا ہے مریض زمین پر لیٹے لیٹے جان دے دیتے ہیں اور دوا دستیاب نہیں، اور اگر ہو بھی جائے تو اثر نہیں رکھتی ، حیرت کی انتہا یہ ہے کہ اوپر سے نیچے سارا عملہ ہی کرپشن میں ملوث نظر آتا ہے۔ چنانچہ ہیلتھ اور فوڈ
سکیورٹی کو اعلی طریقے سے مد نظر رکھنا موجودہ وقت کا تقاضہ ہے، ملک کو خدا کے آسرے پر چھوڑ کر صاحب اختیار اپنی اپنی مجبوریاں ظاہر کرتے نظر آتے ہیں، جس ریاست کو مملکت خدادار کہا جاتا تھا اب یہ مملکت افراتفری بن چکی ہے، ہیلتھ اور فوڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ اپنی اپنی من مانی کرتے ہیں کوئی کنٹرول اور نگرانی کرنے والا محکمہ موجود نہیں جو انکو غریب عوام کی جانوں سے کھیلنے سے رو کیر کام نیب اور انٹی کرپشن کے ذمہ لگا دیتے ہیں، گوہ کہ دوسری طرف میڈیکل سہولیات بہم پہنچائی جاتی ہیں مگرنا کافی ہیں، ادویات مریضوں کی قوت خرید سے بہت زیادہ ہے اور غریب عوام کو ان سہولیات کا ملنا ایک کار پریشان بن چکا ہے۔ اس امید سے ہیں کہ بھی تو کوئی آواز عرش تک سنی جائے گی اور ایک روز ہماری فلاحی ریاست کو وہ مسیحا امن و سلامتی عطاء کرے گا۔