پہلے کہتا تھا غلامی نامنظور اب کہتا ہے غلامی فوری منظور، خواجہ آصف

پہلے کہتا تھا غلامی نامنظور اب کہتا ہے غلامی فوری منظور، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے لاہور میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ سیاسی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی سیاسی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب امریکہ سے مدد کی درخواست کر رہے ہیں، جب کہ پہلے وہ "غلامی نامنظور" کا نعرہ لگاتے تھے۔ خواجہ آصف نے طنز کیا کہ اب عمران خان "غلامی فوری منظور" کی بات کر رہے ہیں، جو ان کی تبدیل ہوتی سیاسی پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن ہمیشہ مذاکرات کے حق میں رہی ہے اور یہ پارٹی اقتدار میں ہو یا نہ ہو، ہمیشہ مذاکرات کی پیشکش کرتی ہے، مگر اس پیشکش کا کبھی مثبت جواب نہیں آیا۔ خواجہ آصف نے یاد دلایا کہ 2014 کے احتجاج کے دوران عمران خان نے سڑکوں کی مانگ کی تھی اور مسلم لیگ ن نے وہ سڑکیں بنا کر ان کی درخواست کا جواب دیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ پچھلے 15 دن میں کون سا ایسا فیصلہ یا تبدیلی ہوئی ہے جس کے بعد عمران خان مذاکرات کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ وزیر دفاع نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اگر مذاکرات کیے جائیں تو ان میں تمام پاور سینٹرز کو شامل کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسے سیاستدان بھی آئے ہیں جنہوں نے کبھی وفا نہیں کی، اور وہ عمران خان کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کی پارٹی میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس نے وفا کی ہو۔خواجہ آصف نے پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر بھی بات کی اور کہا کہ افغانستان میں جہاد کے دوران پاکستان نے مفت میں اس جنگ کی قیمت ادا کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے دور میں 40 ہزار لوگ پاکستان آئے اور ان واقعات کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں عدلیہ نے انصاف کو خراب کیا اور اس کے اثرات ملک پر مرتب ہو رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ جب تک سیاستدان اپنے وقار اور عزت کا خیال نہیں رکھتے، ملک کی صورتحال میں بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی۔وزیر دفاع نے آخر میں کہا کہ ملک کے مسائل کا رخ ہمیشہ امریکہ اور برطانیہ کی طرف ہوتا ہے، اور سیاستدانوں کو اپنی عزت نفس کا خیال رکھنا چاہیے۔