جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی اور واضح کیا کہ وہ کسی صورت ’’غلامی‘‘ قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نکل سکتے ہیں تو موجودہ حکمرانوں کے خلاف بھی کھڑے ہو سکتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر پیس بورڈ یا کسی عالمی معاہدے کے نکات میں تبدیلیاں ہوئیں تو حکومت وہاں کیوں گئی؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی جارحیت کو تقویت دے رہے ہیں اور حماس کو کھلی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان، عراق اور لیبیا کی تباہی سب کے سامنے ہے اور اب اسرائیل ایران پر حملے کے بعد تفتان کی سرحد تک آن پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے پہلے صدر نے اپنی پالیسی میں ایک نوزائیدہ اسلامی ریاست کے خاتمے کو منشور بنایا تھا، اس کے باوجود ہم ایسے فورمز کی طرف دوڑ رہے ہیں جہاں ابتدا ہی دھمکیوں سے ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آپ ایک بت کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کو راضی کرنے میں لگے ہوئے ہیں، امریکا نے ماضی میں بھی ساتھ نہیں دیا اور آئندہ بھی نہیں دے گا۔
جے یو آئی سربراہ نے سوال اٹھایا کہ اگر اقوام متحدہ میں اسرائیل کی موجودگی کو جواز بنا کر اس کے ساتھ بیٹھا جا سکتا ہے تو پھر پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کی پابندی کیوں ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں امن چاہیے مگر اصولوں کے ساتھ، جبکہ ملک میں معاشی حالات بدتر ہو رہے ہیں اور صرف پاکستان ہی ڈوب رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ اور کابینہ کو اعتماد میں لیے بغیر بڑے فیصلے کیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ خود وزیر خارجہ تسلیم کر چکے ہیں کہ ٹرمپ کے ابتدائی نکات وہ نہیں تھے جو طے پائے تھے، تو پھر کیا بغیر پڑھے دستخط کر دیے گئے؟انہوں نے مزید کہا کہ اگر حماس کو کچل دیا گیا تو اس کے بعد ایران اور پھر پاکستان کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اسرائیل خطے میں مسلسل پیش قدمی کر رہا ہے اور اس کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔
آخر میں مولانا فضل الرحمان نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ 25 کروڑ عوام کو غلام بنا کر ہانکنا قبول نہیں کریں گے۔ اگر نواز شریف اور شہباز شریف اس غلامی کو قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، لیکن ہم ہرگز غلامی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے ایوان سے مطالبہ کیا کہ موجودہ شرائط پر پیس بورڈ کو مسترد کیا جائے۔