80 کی دہائی میں اسلامائزیشن کا بخار دین کیلئے نہیں امریکا کیلئے تھا، خواجہ آصف

80 کی دہائی میں اسلامائزیشن کا بخار دین کیلئے نہیں امریکا کیلئے تھا، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ 80 کی دہائی میں اسلامائزیشن کا بخار دراصل امریکہ کے لیے تھا، نہ کہ دین کے لیے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ اس ملک میں افغان جہاد کے دوران تعلیمی نصاب تبدیل کیا گیا، جو کہ یونیورسٹی آف نبراسکا سے تیار کیا گیا۔انہوں نے نشاندہی کی کہ مختلف شہروں میں مدرسوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ مدرسے قبضے کی زمینوں پر بن رہے ہیں، جس سے مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ لوکل گورنمنٹ کو فوجی ڈکٹیٹرز نے استعمال کیا، اور وہ چاہتے ہیں کہ ایم این ایز کو اپنی طاقت دی جائے تاکہ مقامی سطح پر اسپتال اور اسکول چلائے جا سکیں۔انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ پارلیمنٹ کو ایسے مسائل پر مشترکہ موقف اپنانا چاہیے، کیونکہ ہمارے قومی تشخص پر حملے ہو رہے ہیں جو نقصان دہ ہیں۔