ایران کی داخلی اور خارجی چیلنجز: ایک پیچیدہ صورتحال

سمیع اللہ ملک (آخری قسط)

ایران کی ترجیح اول اپنی بقاکویقینی بناناہے۔اب ایران اپنے آپ کوتبدیل کرنے،مزاحمت کے محورمیں سے جوبچاہے،اسے تقویت دینے اورعلاقائی تعلقات میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کرے گاتاکہ نومنتخب ٹرمپ کے دباؤسے بچاجاسکے۔ڈینس ہورک نے کینیڈاکے ناظم الامورکے طورپرتین سال ایران میں گزارے۔وہ کہتے ہیں کہ’’یہ ایک مضبوط اعصاب والی حکومت ہے جس میں طاقت کے زبردست محورہیں،اوروہ خطرات سے کھیل سکتے ہیں‘‘۔ان کے مطابق ایران میں اب بھی لڑنے کی بے پناہ صلاحیت ہے جسے اسرائیل سے جنگ کی صورت میں وہ خلیجی عرب ممالک کے خلاف استعمال کرسکتاہے۔انہوں نے خبردارکیا ہے کہ ایران کومحض کاغذی شیرسمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔
یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ عالمی طورپرایران اب کافی کمزورہوگیاہے۔ابھی اسے غیرمتوقع ٹرمپ کاسامناہوگاجو20دسمبرکوامریکی صدرکاحلف اٹھالیں گے اوردوسرااسرائیل نے یہ ثابت کیاہے کہ وہ اپنے دشمنوں کاانتخاب کیسے کرتاہے۔ایران یقینی طور پراپنے ’’ڈیفنس ڈاکٹرائن‘‘یعنی دفاعی نظریے کوبھی ازسرنوترتیب دے گاجس کاپہلے خاصاانحصار مزاحمت کے محورپرتھا۔اب وہ اپنے نیوکلیئرپروگرام کابھی جائزہ لے گااوراس بات کابھی تعین کرے گاکہ ملک کی وسیع ترسلامتی کیلئے اس پروگرام میں بڑی سرمایہ کاری ضروری ہو گی۔ایران کایہ اصرارہے کہ اس کانیوکلیئرپروگرام مکمل طورپرپرامن مقاصدکیلئے ہے مگرٹرمپ نے اپنے پہلے دوراقتدارمیں ایران سے2015کامعاہدہ ختم کیا۔اس معاہدے کے تحت معاشی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے ایران اپنے پروگرام کو محدودکرنے پررضامندہوگیاتھا۔
اس معاہدے کے تحت ایران کویورینیم افزودگی3.67فیصدتک کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔کم درجے کی یورینیم افزدوگی سے تجارتی نیوکلیئرپاورپلانٹس کیلئے ایندھن پیداکیا جا سکتا ہے۔جوہری امورپرنظررکھنے والی اقوام متحدہ کی تنظیم انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(آئی اے ای اے)کاکہناہے کہ اب ایران اسے60فیصدتک لے جاکریورینیم کی افزدوگی کی حدمیں بہت زیادہ اضافہ کررہاہے۔ ایران کاکہناہے کہ وہ امریکی پابندیوں کے جواب میں ایساکررہاہے۔نیوکلیئربم کیلئے90فیصداوراس سے زیادہ حدتک یورینیم کی افزودگی درکار ہوتی ہے۔آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کاکہناہے کہ ایران شایدخطے میں اسے پہنچنے والے نقصانات کے بعدایساکررہاہے۔
رائل یونائیٹڈسروسزانسٹیٹیوٹ کے’’نیوکلیئرپروفیلریشن‘‘امورکی ماہردریادولزیکوف کے مطابق’’یہ خاصی تشویشناک صورتحال ہے۔ نیوکلیئرپروگرام 2015کے مقابلے میں بالکل ایک مختلف جگہ پرہے۔اگرچہ ماہرین کاکہناہے کہ ایران ایک ہفتے کے اندریورینیم کی افزودگی سے بم تیارکرسکتاہے مگراس کیلئے اسے وارہیڈکی ضرورت ہے جس سے پھروہ یہ بم
فائرکرنے کے بھی قابل ہو سکے۔اس عمل میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں یاکم ازکم ایک سال کاعرصہ درکارہے۔ہمیں نہیں معلوم کہ ایران کس حد تک نیوکلئیر ہتھیاروں کے قریب پہنچ چکا ہے مگرایران کواب اس بارے میں علم ہوگیاہے اوراب اسے پیچھے ہٹاناخاصامشکل ہوگا‘‘۔
مغربی ممالک کواس پرتشویش ہے۔تل ابیب یونیورسٹی میں اسرائیلی انسٹیٹیوٹ فارنیشنل سکیورٹی سٹڈیزکی سینیئرمحقق ڈاکٹرریز زمت کاکہناہے کہ’’یہ واضح ہے کہ ٹرمپ ایران کو(اس حوالے سے)مکمل دباؤمیں رکھیں گے مگرمیرے خیال میں وہ ایران سے مذاکرات کے دروازے بھی کھولیں گے تاکہ اس کے متعلق ازسرنوبات چیت کاآغازہوسکے اوروہ ایران کواس کے نیوکلیئرپروگرام سے دستبرداری پرراضی کرسکیں‘‘۔نیتن یاہوایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں مگرڈاکٹرریزکے خیال میں’’اسرائیل انتظارکرے گاکہ آخرٹرمپ کیاکرتے ہیں اور ایران اس کاپھرکیاجواب دیتاہے۔اس کے امکان کم ہیں کہ ایران جنگ چھیڑنے کامتمنی ہوگا‘‘۔
میں اپنے ایک کالم میں اس توقع کااظہار بھی کرچکاہوں کہ میرے خیال میں بطوربزنس مین ٹرمپ ایران سے بات چیت کی راہ نکالیں گے اورڈیل کی کوشش کریں گے۔اگرایسا نہیں ہوتاتوپھروہ اسے مذاکرات کی میزتک لانے کیلئے زیادہ سے زیادہ دباؤڈالیں گے۔اس لئے میں اب بھی یہ سمجھتاہوں کہ جنگ سے زیادہ ڈیل کے امکانات ہیں۔تاہم اس بات کے بھی امکانات موجود ہیں کہ اگروہ زیادہ دباؤبڑھائیں گے تواس سے خرابی بھی پیدا ہوسکتی ہے اورپھراس کا نتیجہ جنگ کی صورت میں نکلے گاجوامریکااوران کے اتحادیوں میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا۔
ایران کواس وقت متعددداخلی چیلنجزکابھی سامناہے۔تہران نے نئے رہبراعلیٰ کابھی انتخاب کرناہے۔آیت اللہ خامنہ ای اب اس بات پر پریشان ہورہے ہوں گے کہ وہ جاتے ہوئے اپنی وراثت اوراقتدارکی منتقلی اس طرح کریں کہ ایران ایک’’مستحکم پوزیشن‘‘پرکھڑا ہو ۔ملک بھرمیں2022کے احتجاج کے بعدایرانی حکومت کوبڑادھچکالگاتھا۔یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب ایک نوجوان خاتون مہساامینی کواس الزام پرماردیاگیاکہ وہ معقول پردہ نہیں کرتی تھیں۔اس احتجاج کے ذریعے مذہبی رہنماں کی اسٹیبلشمنٹ کی قانونی حیثیت کوچیلنج کیاگیااورپھران مظاہروں کوطاقت کے بل بوتے پرکچل دیاگیا۔
ملک کے اندرابھی یہ غصہ بڑے پیمانے پرہے کہ ایران ملک سے باہرتوبہت خرچ کررہاہے مگرجوبے روزگاری اورافراط زرکا سامناایرانی شہریوں کوہے،اس سے متعلق کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں۔خاص طورپرایران کی نوجوان نسل اسلامی انقلاب سے کٹی ہوئی ہے۔ان کی اکثریت حکومتی پابندیوں پرسوالات اٹھاتی ہے۔گرفتاری کے خطرے کے باوجودہرروز خواتین بغیرپردے کے باہرنکل کرحکومتی اقدام کوہوامیں اڑادیتی ہیں۔ایران پرنظررکھنے والوں کاکہناہے کہ اس سب کے باوجود ابھی شام کی طرح ایران میں حکومت کی تبدیلی کاکوئی امکان تونہیں ہے لیکن درپردہ کچھ ایسی قوتیں بھی ضرورپنپ رہی ہیں جو کبھی بھی یکدم حیران کرسکتی ہیں۔
جیمزجیفری کاکہناہے کہ’’میرانہیں خیال کہ ایرانی عوام دوبارہ اٹھیں گے کیونکہ ایران نے اپنی سلطنت کھودی ہے جوکہ بہت غیر مقبول تھی‘‘۔ڈینس ہورک کے خیال میں اب ایران کی اختلافی آوازوں کیلئے برداشت مزیدکم ہوجائے گی کیونکہ اب وہ اپنی اندرونی سکیورٹی پرتوجہ دے گا۔پردہ نہ کرنے والی خواتین کی سزاؤں کوبھی مزیدسخت کرنے سے متعلق قانون سازی جلدی ہونے والی ہے۔تاہم ابھی ایرانی حکومت کوکوئی خطرہ نہیں ہے۔اگرلاکھوں ایرانی اس حکومت کی حمایت نہیں کرتے تووہاں لاکھوں ایسے بھی ہیں جواس کے حمایتی ہیں۔میرانہیں خیال کہ یہ حکومت کسی بھی وقت گرسکتی ہے‘‘۔
اگرملک کے اندرغصے کوبھی دیکھاجائے اورشام میں ایران کوپہنچنے والے نقصان پربھی نظردوڑائی جائے تویہ کہاجاسکتاہے کہ اب ایران کے حکمرانوں کوضرورایک پیچیدہ صورتحال کا سامناہے۔کیاان مشکل حالات میں ایران اپنے پڑوسی ممالک میں ان عناصر کی مددکرنا بندکردے گاجس کی وجہ سے پڑوسی ممالک کوایران سے خاصی شکائت ہے۔یقیناً ایران کواپنے پڑوسیوں کی حمائت کی جس قدرآج ضرورت ہے،اس سے پہلے کبھی ایسی نہ تھی۔
پڑوسی کے مکاں میں چھت نہیں ہے 
مکاں اپنے بہت اونچے نہ رکھنا