پاکستان میں سیاسی استحکام ، چیلنجز اور ممکنہ حل

سلمان احمد قریشی

 آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زیر صدارت دو روزہ 84 ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اہم سرکاری عمارتوں کی حفاظت اور غیر ملکی وفود کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے دارالحکومت میں فوج کی قانونی تعیناتی پر بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ 24 سے 26 نومبر کے دوران بیلا روس کے صدر کے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کیا، جسے ایک کریک ڈاؤن کے ذریعے منتشر کر دیا گیا۔بیلا روس کے صدر کے دورے اور ریڈ زون میں اہم سرکاری عمارتوں کے تحفظ کے لیے حکومت نے دارالحکومت میں فوج تعینات کی، لیکن اس اقدام کو سیاسی پروپیگنڈے کے ذریعے متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ایک منظم منصوبہ ہے، جو بیرونی عناصر کی مدد سے عوام اور مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے، لیکن یہ مذموم کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو جھوٹے بیانیوں، زہر آلود تقاریر، اور تقسیم کے بیج بونے کے خلاف سخت قوانین نافذ کرنے چاہئیں۔ جعلی خبروں اور پروپیگنڈے کو پھیلانے والوں کی نشاندہی کر کے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔
 قارئین کرام!پاکستان میں سیاست عوامی مسائل کے حل کے بجائے نعروں اور بیانیوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ ہم اس حد تک تقسیم ہیں کہ سیاسی مخالف کو سزائے موت دینے پر بھی ڈکیٹر کے ساتھ کھڑا ہونے والوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اعلانیہ ڈکیٹر کے مشن کو پورا کرنے کا اعلان سنتے ہیں، اسلامی جمہوری اتحاد کو ووٹ دیتے پاکستانیوں کو دیکھتے ہیں۔اس اتحاد میں نہ جمہوریت تھی نہ اتحاد قائم رہا۔ایک رہنما نکلتا ہے اور وہ محاذ آرائی کی سیاست کا انتخاب کرتا ہے۔سیاست میں دوسرے فریق کے وجود کو تسلیم کرکے آگے بڑھا جاسکتا ہے اگر سیاسی قوت کو مخالفین کو ختم کرنے میں صرف ہونگی پھر12اکتوبر 1999کا دن قرین قیاس نہیں ہوتا۔دو فریق مثیاق جمہوریت کریں تو تیسرا فریق ادروں سے منسلک طاقتور افراد کے کھیل کے لیے سیاست کو پی ایس ایل کا ٹی ٹونٹی سمجھ کر کھیلنے پر تیار ہوتا ہے۔ایک وقت تھا جب اسلامی جمہوری اتحاد کا قیام عمل میں آیا، جس میں نہ جمہوریت تھی، نہ اتحاد۔ آج بھی سیاسی قیادت محاذ آرائی اور ایک دوسرے کو ختم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔سیاسی مفاہمت کو مک مکا کہنا درست نہیں، بلکہ یہ سیاست کی اصل روح ہے۔ سیاست راستہ نکالنے کا نام ہے، راستے بند کرنے کا نہیں۔ آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں سیاست دائرے میں گھوم رہی ہے، نہ ووٹ کو عزت دی جا رہی ہے، نہ حقیقی آزادی کے نعروں میں کوئی حقیقت باقی رہی۔سیاسی اختلافات کے باوجود یہ لازم ہے کہ ہم آئین کے دائرے میں رہ کر اپنے مسائل حل کریں۔ اداروں پر الزام تراشی، منفی بیانیے، اور نفرت انگیزی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ جمہوری ممالک میں اختلافات کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جاتا ہے، نہ کہ تشدد اور تصادم کے ذریعے۔ سیاسی معاملات کو سیاستدانوں کے ذریعے آئین کی حدود میں رہتے ہوئے حل ہی راستہ ہے۔ تمام ادارے آئین پاکستان کے تابع ہیں اور ان پر لازم ہے کہ وہ حکومت کے احکامات کے پابند رہیں۔ اختلافات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ میثاقِ جمہوریت پر اتفاق کیا جائے تاکہ عوام فیصلہ کر سکیں کہ کون اس معاہدے کا پابند رہا اور کون انحراف کا مرتکب ہوا۔
 شیخ مجیب الرحمن کے مینڈیٹ کی مثالیں دینے سے قبل یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عوامی لیگ کے چھ نکات کیا واقعی پاکستان کو متحد رکھنے کی ضمانت دیتے تھے ۔ تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اداروں یا سیاسی مخالفین پر الزام تراشی سے نہ تو ملک کی خدمت ہوتی ہے اور نہ ہی سیاسی استحکام ممکن ہے۔ سیاست کی حدود کا تعین آئین کرتا ہے، جو پاکستانیوں کو احتجاج کا حق دیتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نجی اور قومی املاک کے تحفظ کی ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے۔اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے ملک کو تہس نہس کر دینے کی خواہش عوامی ردعمل نہیں کہلا سکتی۔ ہمیں جنوبی کوریا کے عوام سے سیکھنے کی ضرورت ہے، جہاں صرف چھ گھنٹوں میں مارشل لا ختم ہوگیا اور جمہوریت بحال ہوئی، بغیر کسی جلاوگھیراو یا انسانی جانوں کے ضیاع کے۔ اس کے برعکس، ہمارے ملک میں گیارہ سال تک آمریت کے سائے رہے اور جب آمریت ختم ہوئی تو مصنوعی سیاستدانوں کا ایک بڑا گروہ تیار کر دیا گیا۔آج پاکستان کے لیے ایک اور بڑا چیلنج سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی صورت میں موجود ہے۔ آزادی اظہار رائے ایک جمہوری حق ہے، لیکن اس کے نام پر اداروں کے خلاف منظم مہم چلانا، جھوٹے بیانیے پھیلانا، اور عوام کو تقسیم کرنا آزادی نہیں بلکہ ملکی سا  لمیت پر حملہ ہے۔ شکوے شکایتیں ہر طبقے کو ہیں، لیکن اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ پاکستان کی سا  لمیت اور بقا سب سے اہم ہے، اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ناقابل قبول ہے۔
 جنوبی کوریا میں جمہوری شعور کی ایک مثال ملتی ہے جہاں عوام نے صرف چھ گھنٹوں میں مارشل لاء کا خاتمہ کیا، وہ بھی بغیر کسی جلاو گھیراو یا تشدد کے۔ ہمیں بھی ایسی ہی سنجیدگی اور شعور کی ضرورت ہے۔اظہار رائے کی آزادی کا مطلب کسی کو گمراہ کرنا یا نفرت پھیلانا نہیں۔ سوشل میڈیا کا غلط استعمال ہماری اجتماعی سالمیت کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ جھوٹی خبریں، جعلی بیانیے، اور منفی پروپیگنڈہ عوام کو تقسیم کر رہے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ سیاسی قیادت ایک متفقہ لائحہ عمل بنائے، تاکہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
 آزادی اظہار پر قدغن لگانا اچھی روایت نہیں، لیکن جھوٹے بیانیے اور نفرت انگیزی کے سدباب کے لیے سیاسی قیادت کو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے خلاف متفقہ لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔ جعلی خبروں اور منفی پروپیگنڈے کو روکنا ضروری ہے۔ جعلی صفحات کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے والوں کو قانون کے دائرے میں لانا ہوگا، کیونکہ یہ معاملہ سیاست سے زیادہ ریاست کی سا  لمیت سے جڑا ہوا ہے۔فوجی قیادت کی جانب سے بیرونی مداخلت کے خدشات معمولی بات نہیں۔ اس پر گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر ریاست ترقی نہیں کر سکتی۔ جیسا کہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا، سیاسی استحکام کے دو راستے ہیں: بات چیت یا طاقت کا استعمال۔ اگر بات چیت کا دروازہ بند کیا جائے گا تو طاقت کا راستہ کھلا رہے گا، جو جمہوری معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
 اپنے  مرکز  سے  اگر  دور  نکل  جاؤ  گے
 خواب ہو جاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے
 جنوبی کوریا کی عوام سے سیکھنے کا وقت آ گیا ہے۔ وہاں نہ جلاوگھیراو ہوا، نہ لاشوں کی سیاست کی گئی، اور نہ ہی نفرت کو ہوا دی گئی۔ ہر پاکستانی کی جان قیمتی ہے، چاہے وہ کسی ادارے سے وابستہ ہو یا کسی سیاسی جماعت سے۔ ایک جان کا نقصان پوری قوم کا نقصان ہے۔توہین مذہب یا سیاسی مقاصد کے تحت تشدد ناقابل قبول ہے۔ سوشل میڈیا کو مکمل کنٹرول کرنا شاید ممکن نہ ہو، لیکن اس کے غلط استعمال کو روکنا ضروری ہے۔ جعلی خبریں اور منفی مہمات روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیاسی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
 یہ وقت سیاست سے زیادہ ریاست کے بارے میں سوچنے کا ہے۔ قومی مفادات کو ترجیح دی جائے اور سیاسی قیادت کو اتحاد اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہی پاکستان کے محفوظ اور مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے۔پاکستان میں سیاسی استحکام کے لیے سب کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ عوام کو جمہوری عمل میں حصہ لے کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کون سا لیڈر آئین اور جمہوریت کا پاسدار ہے۔ اختلافات کم کرنے کے لیے ایک نئے میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے، جو تمام سیاسی جماعتوں کو ایک اصول پر متحد کرے۔یہ وقت سیاست کو ریاست سے مقدم سمجھنے کا نہیں بلکہ ریاست کو سیاست پر فوقیت دینے کا ہے۔ ہم سب کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کی سا  لمیت ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔