بھارت کی بحری توسیع پسندی: چیلنجز اور حقیقت

سمیع اللہ ملک آخری قسط

ان کے مطابق چین کوپاکستان کی بحری صلاحیت بڑھانے میں اس لئے بہت دلچسپی ہے کہ چین کی بحریہ بحرہند میں زیادہ کام کرتی ہے اوراگرپاکستان بحیرِہ عرب کامحاذسنبھال لیتاہے توچین کواس طرف توجہ دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی اوراہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے پاس جوکنوینشنل آبدوزیں ہیں اس صلاحیت کی آبدوزیں انڈیاکے پاس بھی نہیں ہیں۔
دوسری جانب اس خطے پرامریکااورچین کے درمیان جاری مقابلے کااثربھی پڑرہاہے اوراس کافائدہ انڈیاکوہوتاہے۔چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کوکم کرنے کیلئے امریکا نے’’انڈوپیسیفک حکمت عملی‘‘تیارکی ہے۔امریکاکہتاتوہے کہ یہ کثیرالاقوامی پالیسی ہے لیکن دراصل یہ ہم خیال ممالک کے ساتھ اتحادبنانے کی حکمت عملی ہے۔اس سلسلے میں امریکا نے کواڈنمااتحادبنایاجس میں امریکا ،انڈیا،جاپان اورآسٹریلیاشامل ہیں اوراس میں اقتصادی،عسکری اورٹیکنالوجی کے اعتبارسے تعاون کیاجارہاہے۔ان تمام شعبوں میں انڈیاکوہونے والافائدہ ہمارے لیے اچھانہیں کیونکہ وہ ہمارے مخالف ہیں‘‘۔
انڈین دفاعی جریدے’’فورس‘‘کے مطابق پاکستان نے کم دفاعی بجٹ کی وجہ سے’’سی کنٹرول‘‘کی بجائے ’’سی ڈینائل‘‘کی پالیسی پرعمل کیا۔’’سی ڈینائل‘‘کی پالیسی میں آبدوزوں کابہت بڑاکردارہوتاہے کیونکہ وہ زیرِسمندررہ کراپنے ہدف پرحملہ آورہوسکتی ہیں۔ پاکستان کے پاس موجودمنی آبدوزیں سومیٹرکی گہرائی تک جاسکتی ہیں اوریہ بحری سرحدوں کی حدود کے نزدیک کام کرتی ہیں، یعنی اگردشمن کا کوئی جہازان کے بحری حدودکے نزدیک آتاہے تواس کے واپسی کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔
وہ اس بات سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان کی بحریہ آج طاقتورہو چکی ہے اوراس میں کوئی حیرانی نہیں اگرچین کی مدد سے پاکستان زیرسمندرچھوڑے جانے والے کچھ ڈرون بھی بنارہاہوجووہ اپنی بحریہ میں شامل کرسکے۔انڈیاکوپاکستانی بحریہ سے  یہ تشویش بھی ہے کہ"خلیج فارس اوربحراحمرکے راستے انڈیاکابیشترتیل آتاہے اوریورپ سے تجارت ہوتی ہے۔جبوتی میں چین کا بحری اڈہ ہے،ادھرکراچی،گوادراورمکران کے سمندری خطے میں پاکستان کی بحریہ سرگرم ہے۔اس خطے میں پاکستان اورچین کی طاقت بہت بڑھ گئی ہے۔
ادھرانڈیانے سمندرمیں اپنی ذمہ داری اپنی موجودہ صلاحیتوں سے زیادہ بڑھالی ہے۔دراصل پاکستان جن بحری علاقوں کی حفاظت کررہاہے وہ رقبے کے لحاظ سے انڈیاکے مقابلے میں بہت کم ہیں،یعنی پاکستان پرذمہ داری بھی کم ہے اوراس کوصرف بحیرہ عرب پرنظررکھنی ہے اوروہیں لڑائی بھی لڑنی ہے جبکہ انڈیاامریکاکی گودمیں بیٹھ کریہ تاثردے رہاہے کہ
انڈیاکی بحریہ نے اپنے دائرہ بحرہندسے بڑھاکرساتھ چائناسی اورپیسیفک اوشین(بحرالکاہل)تک پھیلالیاہے۔انڈیاکی فوج یابحریہ کے پاس وہ طاقت نہیں ہے جوبہت دورتک جاکرمفادات کاتحفظ کرسکے۔انڈیانے تھیوری میں عالمی طاقتوں کی طرح بڑھک ماری ہے لیکن زمینی حقائق کے مطابق  اتنی دورتک اپنے مفادات کاتحفظ کرنے کی اس میں صلاحیت نہیں ہے۔
گزشتہ دودہائیوں میں انڈین بحریہ نے خودپرکافی سرمایہ لگایاہے اوروہ اس علاقے میں تھانیدارکاکردارنبھانا چاہتاہے۔فی الحال تو اس کے پاس اتنی صلاحیت نہیں ہے جواس نے خودپرنیٹ سکیورٹی پروائیڈرکالیبل لگایاہے،یعنی جوکچھ علاقے میں ہورہاہے۔اس  اس پرنظرہے اوراس سب سے نمٹنے کیلئے اس کے پاس قابلیت ووسائل ہونے چاہییں،یہ صلاحیت فی الحال تواس کے پاس نہیں ہے لیکن یہ اس کامقصدہے جس کے حصول کیلئے ہاتھ پاؤں ماررہاہے۔
دوسری جانب خودانڈین دفاعی ماہرین کاکہناہے کہ اس خطے کی تین قوتوں انڈیا،چین اورپاکستان کی فوجی طاقت کاسوال ہے،انڈیا اورچین کے درمیان زمین آسمان کافرق ہے۔ جہاں تک انڈیااورپاکستان کے موازنہ کاسوال ہے آج پاکستان کی بحریہ اورفضائیہ اپنے ماہرین کی مدداورچین کے تعاون سے بہت طاقتورہوچکے ہیں۔پاکستان کی تینوں افواج بشمول بحریہ کامقصداپنی زمین کادفاع کرنا ہے اوران کے پاس جارحانہ صلاحیتیں بھی ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان کے کوئی جارحانہ عزائم نہیں اورنہ ہی کسی علاقے پرقبضہ کرنا مقصودہے تاہم اپنی زمین کے انچ انچ کادفاع کاعزم لئے ہوئے ہیں۔
یادرہے کہ25نومبر2022کوشہبازشریف نے ترکی کے صدراردگان کی دعوت پراعلی سطح وفد کے ہمراہ استنبول شپ یارڈ میں پاکستان بحریہ کیلئے چارملجم(MILGEM) کارویٹ بحری جہازوں میں سے تیسرے جہازپی این ایس خیبرکاافتتاح کیاتھا۔ملجم منصوبہ ترکی کاقومی بحری جنگی جہازوں کی تیاری کاپروگرام ہے،جسے ترک بحریہ سنبھالتی ہے۔ ان جنگی جہازوں کوفوجی نگرانی،انٹیلی جنس مشنز،قبل ازوقت وارننگ،اینٹی سب میرین وارفیئراوردیگرمشنزکیلئے استعمال کیاجاسکتاہے۔ 
پاکستان کی بحریہ کیلئے ملجم جنگی جہازبنانے کامنصوبہ2018میں ترکی کی ایک فرم کودیاگیاتھا۔گزشتہ برس اگست میں اس منصوبے کے پہلے جنگی جہازپی این ایس بابرکی افتتاحی تقریب استنبول میں منعقد ہوئی تھی۔ جبکہ دوسرے جنگی جہازپی این ایس بدرکاافتتاح مئی2022میں کراچی میں کیاگیا۔یہ تکنیکی طورپرپاکستان نیوی فلیٹ کیلئے جدیدترین جنگی جہازہیں۔ترکی کے مشترکہ طورپربنائے گئے یہ جنگی جہازپاکستانی بحریہ کے پاس جدیدترین ہتھیارہیں جوکہ پاکستان کی میری ٹائم سکیورٹی کی صلاحیت کوبڑھانے میں اہم ثابت ہوں گے۔سندھ اوربلوچستان کی ساحلی سرحدکواہم سکیورٹی فراہم کریں گے۔یہ علامتی طورپراہم ہے اورساتھ ہی یہ منصوبہ دومسلم ممالک کے درمیان تاریخی دوستی اوربرادرانہ تعلقات کی ایک مثال بھی ہے۔
یادرہے کہ پاکستان اورترکی کے تعلقات کی بنیادتقسیم برصغیراورپاکستان کے قیام کے فورابعدرکھی گئی۔اس رشتے کی بنیاد مشترکہ مسلم وراثت،روایات اوربھائی چارہ تھی۔اس بھائی چارے کی جڑیں تاریخ میں موجودہیں۔ترکی کی جدوجہد آزادی کو برصغیرکے مسلمانوں کی طرف سے دی گئی حمایت ترک عوام کے ذہنوں میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔دونوں ممالک زلزلے اورسیلاب جیسی قدرتی آفات میں ایک دوسرے کی مددکرتے رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون اورعوام کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی رہی ہیں۔تاریخی طورپردونوں ممالک نے کشمیراورقبرص جیسے مسائل پرایک دوسرے کاساتھ دیا ہے۔تاہم اقتصادی تعاون اب بھی بہت محدودہے۔
اب تک پاکستان اورچین کی دوستی انڈیاکیلئے چیلنج تھی،اب پاک ترک دوستی نیانڈیاکوپریشان کررکھاہے۔مارچ2021میں سعودی گزٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہاگیاتھاکہ اردوگان جنوبی ایشیامیں پاکستان کے ساتھ سٹریٹجک اتحادکومزیدمضبوط کرناچاہتے ہیں۔گزشتہ سال مارچ میں اکنامک ٹائمزمیں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ترکی اورپاکستان کے ساتھ مل کرکام کرنے کے فیصلے نے ان قیاس آرائیوں کوہوا دی ہے کہ بحیر روم اورجنوبی ایشیامیں انڈیا کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ترکی کاکہناہے کہ اس کاہدف جنگ زدہ ملک افغانستان میں اقتصادی ترقی کیلئے کام کرناہے۔پاکستان اورترکی دونوں مشترکہ طورپرایران کے راستے ریلوے لائن کوتوسیع دے رہے ہیں۔
اکنامک ٹائمزکی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ"پاکستان ترکی کے تیارکردہ ملجم(MILGEM)بحری جنگی جہازوہاں کے سرکاری دفاعی ٹھیکیدارایسفاٹ(ASFAT)سے خریدنے کے عمل میں ہے۔اس کے علاوہ پاکستان نے30ٹی-129ATAKہیلی کاپٹربھی منگوائے ہیں۔ترکی سے پاکستان کی یہ دفاعی سازوسامان کی خریداری تین ارب ڈالرتک پہنچ گئی ہے۔پاکستان نے مشرقی بحیر روم میں ترکی کی گیس کی تلاش کی مہم کی بھی حمایت کی۔ترکی بھی مسئلہ کشمیرپرپاکستان کی کھل کرحمایت کرتاہے۔فروری 2020میں اردوگان نے کہاتھاکہ کشمیرکامسئلہ ترکی کیلئے بھی اتنااہم ہے جتناپاکستان کیلئے۔آرمینیاآذربائیجان تنازعے میں بھی پاکستان نے ترکی کی کھل کرحمایت کی تھی۔اب ٹرائیکا(امریکا،اسرائیل اور انڈیا)کوجہاں یہ پریشانی ہے کہ خطے کے سمندری راستوں پرپاکستانی نیوی کی بڑھتی ہوئی برتری کواڈکوناکام بنانے میں اہم کردارادا کرسکتی ہے وہاں خیلج فارس اوربحراحمرکی ناکہ بندی سے انڈیاکابیشترتیل اوریورپ سے تجارت کاخاتمہ ہوسکتاہے اوردوسری طرف کراچی،گوادراورمکران کے سمندری خطے میں پاکستانی نیوی ایک مضبوط طاقت بن چکی ہے جو
 ملکی دفاع کیلئے پہلے سے کہیں زیادہ اہم کرداراداکرنے کی صلاحیت حاصل کرچکی ہے۔