امریکی معیشت، خارجہ پالیسی اور ٹرمپ۔ پاکستان کیلئے امکانات اور چیلنجز

محمد ندیم بھٹی
امریکہ کی سیاست میں جہاں جذبات، بیانیے اور میڈیا کا شور فیصلہ ساز کردار ادا کرتا ھے، وہاں ایک شخصیت ایسی بھی ھے جو صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک پورا سیاسی فلسفہ، ایک طرزِ حکومت اور ایک غیر روایتی سوچ کا نام ھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو چاہنے والے انہیں امریکہ کی معیشت کا نجات دہندہ کہتے ھے اور مخالفین انہیں ایک جارح مزاج اور غیر پیشگوئی قابل حکمران کے طور پر دیکھتے  ہیں۔ لیکن بہرحال یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ھے کہ ٹرمپ امریکی پالیسیوں میں ہلچل پیدا کر دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ 2016ء￿  سے 2020ء￿  تک کا دوران کے نام رہا، اور اب ایک بار پھر عالمی سیاست کی نظریں ٹرمپ کی واپسی اور ان کی اقتصادی و خارجہ حکمت عملی پر جمی ہیں، کیونکہ امریکی معیشت کا پہیہ عالمی منڈیوں تک اثر انداز ھوتا ھے اور پاکستان بھی اس لہر سے ماورا نہیں رہ سکتا۔
ٹرمپ کا دور معاشی حوالوں سے دیکھا جائے تو ایک طرف ریکارڈ اسٹاک مارکیٹ، کم بے روزگاری، اندرونی سرمایہ کاری میں اضافہ اور ٹیکسوں میں کمی جیسے اقدامات قابلِ ذکر ھے، تو دوسری جانب ٹریڈ وار، امپورٹ ٹیرف اور چین کے ساتھ سخت رویہ عالمی معیشت میں بے یقینی کا سبب بنا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی صنعت کو مقامی بنیادوں پر مضبوط کرنے کا بیانیہ دیا، کمپنیوں کو امریکہ واپس لانے کی بات کی، اور عالمی تجارتی نظام کو "امریکہ فرسٹ" کے اصول پر پرکھا۔ یہی وہ نکتہ تھا جس نے روایتی لبرل معاشی سوچ کو چیلنج دیا۔ ڈیموکریٹس کے نزدیک یہ پالیسیاں وقتی فائدہ تو دیتی ھیں مگر مستقبل میں تناؤ پیدا کرتی ھیں، جبکہ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کے مطابق امریکہ کو ایک سپر پاور رہنے کیلئے اقتصادی خود کفالت اور سخت تجارتی فیصلوں کی ضرورت ھے۔
امریکی معیشت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ھے کہ ٹرمپ دور میں بے روزگاری کی شرح دہائیوں میں کم ترین سطح تک گئی، کاروبار کو ٹیکس ریلیف ملا، مگر اسی کے ساتھ بجٹ خسارہ بھی بڑھا اور یہ ترقی ایک معاشی ببل کے مترادف محسوس ھوتی رہی جو کسی بھی عالمی بحران کے بعد پھٹ سکتا تھا۔ مگر ٹرمپ کا مؤقف ہمیشہ دو ٹوک رھا کہ امریکہ کو دنیا کا محتاج نہیں ھونا چاہئے۔ ان کے نزدیک عالمی اتحاد اور معاہدے تب تک قابل قبول ھیں جب تک وہ براہ راست امریکہ کے مفاد کا سبب بنیں۔ انہوں نے نیٹو پر بھی کھل کر تنقید کی، اتحادیوں سے کہا کہ مفت تحفظ کا دور گزر چکا ھے، ہر ملک کو اپنا حصہ ادا کرنا لازمی ھے۔ امریکی پالیسیوں میں یہ لہجہ کم ہی دیکھنے میں آتا ھے، لیکن ٹرمپ نے اسے اپنی شناخت بنا لیا۔
خارجہ پالیسی کے میدان میں ٹرمپ کی حکمت عملی ہمیشہ جارحانہ لیکن نتیجہ خیز رہی۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو وسعت دینے میں انہوں نے براہ راست کردار ادا کیا۔ ابراہام معاہدے اسی دور کی دین ھیں۔ ایران سے تعلقات انتہائی کشیدہ رھے۔ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پوری دنیا کیلئے چونکانے والا واقعہ تھا۔ چین کے ساتھ تجارتی جنگ نے عالمی سپلائی چین کو ہلا کر رکھ دیا اور دنیا 
دو معاشی بلاکوں میں تقسیم ہوتی دکھائی دی۔ Huawei سمیت کئی چینی کمپنیوں پر پابندیاں لگیں۔ ٹرمپ کا بیانیہ واضح تھا کہ چین مستقبل کا سب سے بڑا معاشی حریف ھے، اس لئے اسے محدود کرنا لازمی ھے۔
پاکستان کے حوالے سے ٹرمپ کا رویہ کبھی نرم تو کبھی سخت رہا۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے پاکستان پر امداد روکنے اور دھوکہ دہی کا الزام لگایا، تو دوسری جانب افغان طالبان سے مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو سراہا بھی۔ ٹرمپ کیلئے افغانستان جنگ ختم کرانا ترجیح تھی۔ قطر مذاکرات اور انخلا معاہدے میں پاکستان سہولت کار بنا اور امریکی حکام نے اس کردار کو تسلیم بھی کیا۔ لہٰذا تعلقات تناؤ اور تعاون کے درمیان جھولتے رھے، مگر حقیقت یہی ھے کہ خطے میں پاکستان کی اہمیت کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اگر  اس دور کے بعد ٹرمپ دوبارہ برسراقتدار آتے ھیں تو پاکستان کیلئے صورتحال ایک بار پھر سفارتی مہارت مانگے گی۔ چین کے ساتھ پاکستان کی اسٹریٹجک شراکت داری گہری ھے، CPEC معاشی امید کا ستون ھے۔ دوسری طرف امریکہ IMF، FATF اور عالمی مالیاتی فیصلوں میں کلیدی کردار رکھتا ھے۔ پاکستان کیلئے ضروری ھے کہ دونوں تعلقات کو بیلنس رکھتے ہوئے خود کو ایک ذمہ دار اور خود مختار ریاست کے طور پر پیش کرے۔ ٹرمپ لین دین کی بنیاد پر تعلقات کے قائل ھیں، اس لئے اگر پاکستان واضح معاشی ایجنڈا سامنے رکھے، توانائی، برآمدات، کاربن مارکیٹ، آئی ٹی، سیمی کنڈکٹر انڈسٹری، زراعت اور ٹیکنالوجی میں تعاون کے راستے پیش کرے تو امریکی سرمایہ کاری کا امکان پیدا ھو سکتا ھے۔
دنیا تیزی سے کثیر قطبی آرڈر کی طرف بڑھ رھی ھے۔ روس اور چین کا بلاک مضبوط ھو رھا ھے جبکہ امریکہ اپنی برتری بچانے میں مصروف ھے۔ ٹرمپ اگر آئے تو یوکرین فنڈنگ محدود، چین پر دباؤ بڑھ سکتا ھے، اسرائیل کیلئے کھلی حمایت جاری رہ سکتی ھے۔ ایسے میں پاکستان کیلئے بہترین راستہ یہی ھے کہ وہ ردعمل نہیں بلکہ پیش قدمی کی حکمت عملی اپنائے۔ ہمیں صرف امداد کا خواہاں ملک نہیں بلکہ اقتصادی پارٹنر بن کر سامنے آنا ھے۔جس میں  پاکستان  ابھی بھی چھوٹی بڑی  درجہ پر توانائی کے پراجیکٹس  کا متمنی ھے جو ایکسپورٹس کی بہتری  اور مقامی طور میں انفلیش میں واضح  کمی کا اھم سبب بن سکتے ہیں۔
پاکستان داخلی سطح پر اصلاحات کرے تو عالمی سرمایہ اپنی سمت خود پیدا کرتا ھے۔ ٹیکس نظام کی شفافیت، برآمدات میں ویلیو ایڈیشن، زرعی پیداواری ٹیکنالوجی، جدید انڈسٹریل زونز، آئی ٹی فری لانسرز کیلئے عالمی مارکیٹ رسائی، یہ وہ شعبے ھیں جن میں امریکہ سے تعاون پاکستان کی اقتصادی ریڑھ مضبوط کر سکتا ھے۔ ٹرمپ چونکہ کاروباری ذہن رکھتے ھیں، لہٰذا انہیں اعداد، نفع اور فوری نتائج پسند ھیں۔ پاکستان اگر معاشی پوائنٹس کے ساتھ بات کرے، صرف سیاسی بیانیے پر نہیں تو مذاکرات سود مند ثابت ھو سکتے ھیں۔
اسی تناظر میں دفاعی تعاون، ڈرون ٹیکنالوجی شیئرنگ، بارڈر سیکیورٹی، انسدادِ دہشتگردی تربیت اور خطے کے امن میں پاکستان کا کردار نئے مواقع لا سکتا ھے۔ افغانستان میں استحکام، وسطی ایشیا تک راہداری تجارت، ناردرن اور سی پیک روٹس امریکہ کی پالیسی میں بھی دلچسپی پیدا کر سکتے ھیں۔ پاکستان کو خود کو ایک اسٹریٹجک کنیکٹر ثابت کرنا ھے۔ یہی ہماری طاقت ھے۔
انتہائی اہم بات یہ ھے  پاکستان کو امریکی تعلقات کو جذبات نہیں بلکہ قومی مفاد کی بنیاد پر چلانا ھے۔ سفارتکاری میں توازن، معاشی لچک، 
فیصلہ سازی میں مستقل مزاجی اور پالیسی کا تسلسل وہ چیزیں ھیں جو عالمی اعتماد پیدا کرتی ھیں۔ اگر پاکستان عالمی سیاست میں "ری ایکٹو اسٹیٹ" کے بجائے "پرو ایکٹو اسٹیٹ" بنے تو ٹرمپ یا کوئی بھی صدر ھو، پاکستان نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایک فرد نہیں، ایک سوچ اور تحریک ہیں۔ ان کی واپسی دنیا میں نئی صف بندی، نیا معاشی مقابلہ اور نئی حکمت عملی جنم دے سکتی ھے۔ پاکستان کیلئے راستہ واضح ھے۔ سفارتکاری میں وقار، تجارت میں شفافیت، سرمایہ کاری کیلئے تحفظ اور ٹیکنالوجی و تعلیم میں انقلاب۔ اگر ہم آج فیصلہ کریں کہ پاکستان کو صرف امداد نہیں بلکہ اقتصادی طاقت بنانا ھے تو ٹرمپ دور مواقع کا دروازہ ثابت ھو سکتا ھے۔ سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ کیا دیں گے، سوال یہ ھے  پاکستان کیا لے سکتا ھے۔ یہی سوچ پاکستان کو مستقبل میں عالمی سیاست میں باوقار مقام دلا سکتی ھے اور آنے والے وقت میں یہی فیصلہ ہماری معاشی سمت کا تعین کرے گا۔