آئی ایم ایف اورپاکستان کی سیاست:ایک پیچیدہ تعلق

سمیع اللہ ملک

حفیظ شیخ کے مطابق اس وفدکامینڈیٹ محض اتناہے کہ اس نے بدعنوانی سے متعلق ایک مخصوص رپورٹ مرتب کرنی ہے جبکہ 7/ارب ڈالرکے پروگرام کاجائزہ لینے کیلئے آئی ایم ایف کاوفداگلے دوسے تین ہفتوں میں پاکستان کادورہ کرے گاجس کی بنیادپرپھر یہ فیصلہ ہوناہے کہ اسلام آبادکوقرض کی اگلی قسط جاری کی جانی چاہیے یانہیں۔تاہم  آئی ایم ایف سے ہوئے معاہدے کے تحت پاکستان عدالتی اصلاحات کرنے کاپابندہے اورپھرآئی ایم ایف کے جائزے سے مشروط اس پروگرام کوآگے بڑھانے کاپابندہے۔آئی ایم ایف کا یہ وفدایک ہفتے کیلئے پاکستان کے دورے پررہے گااور6شعبوں کی کڑی نگرانی کرے گاکہ کیسے یہ بدعنوانی کے خاتمے کیلئے کام کررہے ہیں۔حکام کے مطابق یہ وفد مالیاتی گورننس ، سینٹرل بینک گورننس اینڈآپریشنز،مالیاتی شعبے پرنظر رکھے گا،مارکیٹ ریگولیشن کاجائزہ لے گااورپاکستان میں قانون کی حکمرانی اوراینٹی منی لانڈرنگ جیسے اقدامات کا جائزہ لے گا ۔ اس وفدنے عدلیہ،سٹیٹ بینک،الیکشن کمیشن،فنانس،ریونیواورایس ای سی پی سمیت دیگرشعبوں کے حکام سے ملاقاتیں کرنی ہیں۔
گذشتہ برس پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان7/ارب ڈالرقرض کے حصول کیلئے طے پانے والے معاہدے سے قبل پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈکی جانب سے عائد کردہ شرائط کوپوراکرنے کی کوشش کی تھی جس کے تحت رواں مالی سال میں ٹیکس آمدن بڑھانے،مختلف شعبوں پرٹیکس کی شرح بڑھانے اورنئے شعبوں کوٹیکس نیٹ میں لانے جیسے اقدامات شامل تھے۔اینٹی کرپشن فریم ورک کوموثربنانے کیلئے حکومت2025تک سول سروس ایکٹ میں ترمیم کرے گی تاکہ اعلی سطح کے عوامی عہدیداروں کے اثاثوں کی  ڈیجیٹل فائلنگ اوران کی عوامی رسائی کویقینی بنایاجاسکے اورایف بی آرکے ذریعے اثاثوں کی جانچ کیلئے ایک مستحکم فریم ورک تیارکیاجائے گا۔
عدالتی اورریگولیٹری نظام کاجائزہ آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کاحصہ ہے اورپاکستان نے اس معاہدے پردستخط کررکھے ہیں۔ پاکستان نے فنڈکویہ یقین دلارکھاہے کہ وہ انسداد بدعنوانی کیلئے اپنے اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کرے گااوروہ آگے بڑھنے کیلئے سب کوغیرامتیازی کاروباری اورسرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گا۔
معاشی غلامی کاتصوراس وقت سامنے آتاہے جب کوئی ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب کراپنی آزادانہ پالیسی سازی کی صلاحیت کھوبیٹھتاہے۔تاریخ میں کئی مثالیں موجودہیں جہاں معاشی برتری نے ممالک کی خودمختاری کومحدودکردیا۔مثال کے طورپر19ویں صدی میں مصرنے برطانوی قرضوں کی ادائیگی نہ کرسکنے پراپنی خودمختاری کھودی،جس کے نتیجے میں برطانیہ نے مصرپر قبضہ کرلیا۔اسی طرح جدیددورمیں"ڈیبٹ ٹریپ ڈپلومیسی"کی اصطلاح اکثرچین کے بیلٹ اینڈروڈمنصوبے کے حوالے سے استعمال کی جاتی ہے۔
پاکستان کی موجودہ حکومت نے گزشتہ چند سالوں میں سخت معاشی اصلاحات اورآئی ایم ایف کے ساتھ کئی بارمعاہدے کرکے ملک کودیوالیہ ہونے سے بچانے کی کوشش کی ہے ۔ ٹیکس اصلاحات،اخراجات میں کٹوتی،اورزرِمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ کرنے جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔تاہم،یہ تمام کوششیں وقتی طورپرتوکارگرثابت ہوئیں لیکن ملک کی معیشت اب بھی غیرمستحکم ہے اورقرضوں کابوجھ بڑھتاجارہاہے۔
اگرپاکستان دیوالیہ ہوتاہے توعالمی مالیاتی ادارے،خاص طورپرآئی ایم ایف،قرضوں کی واپسی کیلئے مختلف اقدامات کرسکتے ہیں۔ ان میں ملک کے غیرملکی اثاثوں کوضبط کرنا،بین الاقوامی مالیاتی امدادیاتجارت پرپابندیاں لگانا،اوربین الاقوامی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی شامل ہوسکتی ہے۔بعض اوقات،ملک کے اندرونی اثاثے،جیسے سرکاری ادارے یا قدرتی وسائل،بھی گروی رکھوائے جاسکتے ہیں یاان پربین الاقوامی کنٹرول عائدکیاجاسکتاہے۔پاکستان نے ماضی میں کئی قیمتی اثاثے مختلف مالیاتی معاہدوں کے تحت گروی رکھوائے ہیں۔ان میں گوادرپورٹ،موٹرویز،اورقومی ایئرلائن کے مخصوص حصص شامل ہیں۔اس کے علاوہ،کچھ قدرتی وسائل اورپاورپلانٹس بھی گروی رکھے گئے ہیں یاان پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کااثرورسوخ بڑھ گیاہے۔یہ اقدامات وقتی مالی امدادکیلئے کیے گئے تھے لیکن ان کا طویل المدتی اثرملکی خودمختاری پرپڑسکتاہے۔
آئی ایم ایف وفدکی چیف جسٹس سے ملاقات کئی پہلوں سے اہم ہے،مگریہ کہناکہ یہ براہِ راست مداخلت ہے یاپاکستان کی خود مختاری پرحملہ ہے،شایدقبل ازوقت ہوگا۔پاکستان کو اپنی معاشی پالیسیاں مستحکم کرکے قرضوں پرانحصارکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی مالیاتی اداروں کے اثرسے بچ سکے۔تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ حقیقی خودمختاری صرف معاشی خود انحصاری سے ہی ممکن ہے اوراس کیلئے سیاسی استحکام بھی ناگزیرہے۔ سیاسی انارکی،بدعنوانی،اورادارہ جاتی کمزوری ملکی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
پاکستان میں سیاسی انارکی کی وجوہات میں طاقت کی کشمکش،جمہوری اداروں کی کمزوری،اورانتخابی نظام کی شفافیت کافقدان شامل ہیں۔سیاسی جماعتوں کاکرداراس میں کلیدی ہے ، جنہیں اپنے اندرونی ڈھانچے کومضبوط،جمہوری اصولوں کی پاسداری اورعوامی مفادات کواولین ترجیح دینی چاہیے۔علاوہ ازیں عالمی سیاست میں موجودہ سپرپاورزکے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی،جیسے امریکا،چین،اورروس کے درمیان تعلقات،عالمی سطح پرانارکی کاباعث بن رہے ہیں۔غزہ اوراسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ،اور امریکاکی جارحانہ خارجہ پالیسیوں نے نہ صرف مشرق وسطی بلکہ دنیابھرمیں امن کوخطرے میں ڈال دیاہے۔یہ عالمی تناؤپاکستان جیسے ممالک پربھی اثراندازہوتاہے،جواقتصادی وسیاسی دباؤ کاسامنا کرتے ہیں۔
آئی ایم ایف وفدکی چیف جسٹس سے ملاقات کئی پہلوں سے اہم ہے،مگریہ کہناکہ یہ براہِ راست مداخلت ہے یاپاکستان کی خود مختاری پرحملہ ہے،شایدقبل ازوقت ہوگا۔پاکستان کو اپنی معاشی پالیسیاں مستحکم کرکے قرضوں پرانحصارکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی مالیاتی اداروں کے اثرسے بچ سکے۔ساتھ ہی،سیاسی استحکام اورعالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں دانشمندانہ حکمت عملی اختیار کرنابھی ضروری ہے۔تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ حقیقی خودمختاری صرف معاشی خود انحصاری سے ہی نہیں بلکہ سیاسی استحکام اور بین الاقوامی سطح پرمتوازن پالیسیوں سے ممکن ہے۔ہمیں ہرحال میں یہ ذہن نشین رکھناچاہئے کہ پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی قوت بن چکاہے اوراس کی میزائل ٹیکنالوجی پرامریکانہ صرف اپنے تحفظات کااظہار کرچکاہے بلکہ دومرتبہ مختلف اقسام کی پابندیاں بھی عائدکرچکاہے کہ امریکا پاکستان کے بین البراعظمی میزائل کی زدمیں آچکا ہے جبکہ تمام وہ مالیاتی ادارے جوپاکستان کوقرض دیتے ہیں،ان کی باگ ڈوران قوتوں کے پاس ہے جن کوایٹمی پاکستان ایک آنکھ نہیں بھاتا۔