عابدگوندل
پاکستان جیسے معاشی اور انتظامی چیلنجز سے دوچار ملک میں سرکاری اداروں کی نجکاری ایک پیچیدہ اور حساس مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ صرف معاشی نوعیت کا نہیں بلکہ سماجی، سیاسی اور اخلاقی پہلو بھی رکھتا ہے۔ جہاں حکومتیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ نجکاری سے ادارے منافع بخش، موثر اور جدید خطوط پر استوار ہوں گے وہیں عوام کا ایک بڑا طبقہ اسے اپنے روزگار، بنیادی سہولیات اور قومی مفادات کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔پاکستان میں نجکاری کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ 1990 کی دہائی میں عالمی مالیاتی اداروں کے دباو?، قرضوں اور اقتصادی اصلاحات کے نام پر حکومت نے کئی بڑے ادارے فروخت کیے جن میں بینک، انشورنس کمپنیاں، ٹیلی کمیونیکیشن ادارے اور دیگر مالیاتی ادارے شامل تھے۔ کچھ جگہوں پر یہ تجربہ مثبت رہا لیکن کئی معاملات میں یہاں کرپشن، اقربا پروری اور شفافیت کی کمی جیسے مسائل سامنے آئے جس سے نجکاری کا پورا عمل متنازع بن گیا اور عوام کے اندر یہ تاثر پیدا ہوا کہ قومی اثاثے چند بااثر ہاتھوں میں سونپے جا رہے ہیں۔۔نجکاری کے حق میں دلیل دی جاتی ہے کہ سرکاری ادارے بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور کرپشن کی وجہ سے خسارے میں جا چکے ہیں اور حکومت کے لیے ان کا بوجھ اٹھانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ادارے قومی خزانے پر بوجھ بن کر رہ گئے ہیں اور عوام کو معیاری خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا انہیں نجی شعبے کے حوالے کرنا ہی واحد حل ہے تاکہ وہ ادارے پیشہ ورانہ انداز میں، منافع کے اصول پر اور جدید تقاضوں کے مطابق کام کریں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر خسارے میں جانے والا ادارہ نجکاری کے قابل ہے؟ کیا حکومت کی ذمہ داری صرف یہ رہ گئی ہے کہ جو ادارہ سنبھالا نہ جا سکے اسے بیچ دیا جائے؟ کیا اصلاحات، احتساب، بہتر گورننس اور انتظامی بہتری کے ذریعے ان اداروں کو بحال نہیں کیا جا سکتا؟ اگر حکومت خود ان اداروں کو بہتر طریقے سے نہیں چلا سکتی تو نجی ادارے ایسا کیسے کر لیتے ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسئلہ انتظامیہ کی صلاحیت کا ہے نہ کہ ادارے کی نوعیت کا۔نجکاری کا سب سے زیادہ اثر عام شہری پر پڑتا ہے۔ جب بجلی، پانی، گیس یا ریلوے جیسے ادارے نجی شعبے کو منتقل کیے جاتے ہیں تو ان کی اولین ترجیح عوامی خدمت نہیں بلکہ منافع ہوتا ہے۔ اس سے سروسز کی قیمتیں بڑھتی ہیں، غریب اور متوسط طبقہ مزید دبائو کا شکار ہو جاتا ہے اور ریاست کا فلاحی کردار کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اداروں میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے یا ان کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔پاکستان اسٹیل مل، پی آئی اے، واپڈا اور دیگر اداروں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ حکومت ان اداروں کو خسارے کا بہانہ بنا کر نجکاری کی فہرست میں شامل کرتی رہی ہے لیکن ان خساروں کے اصل اسباب پر کبھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔ نہ تو کرپشن کی تحقیقات ہوئیں، نہ ناقص پالیسیوں کا احتساب ہوا اور نہ ہی انتظامی بہتری کے لیے کوئی جامع حکمت عملی وضع کی گئی جس سے عوام کو یہ تاثر ملا کہ نجکاری دراصل کچھ مخصوص کاروباری طبقوں کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ ہے نہ کہ ریاست کی معاشی بہتری کا۔نجکاری کا ایک اور حساس پہلو قومی خودمختاری سے جڑا ہے۔
جب ملک کے اسٹریٹجک ادارے جیسے بجلی، گیس، ہوائی اڈے، بندرگاہیں یا مواصلاتی ادارے، غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں تو یہ قومی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے۔ یہ کمپنیاں اپنے کاروباری مفادات کو مقدم رکھتی ہیں اور کسی عالمی سیاسی کشمکش میں اپنے اصل ملک کے مفادات کی حمایت کر سکتی ہیں جو پاکستان جیسے ملک کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ نجکاری کے عمل میں شفافیت کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ ادارے کس قیمت پر بیچے جا رہے ہیں؟ خریدار کون ہیں؟ نیلامی کا عمل کتنا شفاف ہے؟ ان سوالات کے واضح جوابات نہ ہونے کی وجہ سے نجکاری عوامی اعتماد سے محروم ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ ایک قیمتی قومی اثاثہ اونے پونے داموں میں بیچ دیا گیاجس کا فائدہ صرف خریدار کو ہوا نہ کہ ریاست یا عوام کو۔نجکاری کے اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے چند اہم نکات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے پہلے اصلاحاتی پروگرام شروع کرنا چاہیے۔ پیشہ ورانہ انتظام، ٹیکنالوجی کا استعمال، کرپشن کے خلاف سخت کارروائی اور سیاسی مداخلت سے پاک ماحول فراہم کر کے ان اداروں کو فعال بنایا جا سکتا ہے۔ اگر کسی ادارے کی نجکاری ناگزیر ہو تو اس عمل کو مکمل شفافیت، کھلی نیلامی اور پارلیمانی نگرانی کے تحت مکمل کیا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو۔ نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم کو معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں استعمال کیا جائے نہ کہ محض قرضوں کی ادائیگی یا بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے۔ایک متبادل تجویز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل ہے جس میں حکومت اور نجی شعبہ مل کر ادارے چلاتے ہیں۔ اس ماڈل میں نہ صرف نجی شعبے کی مہارت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے بلکہ ریاستی کنٹرول بھی قائم رہتا ہے۔ یہ توازن کارکردگی اور عوامی مفاد دونوں کو یکجا کرنے کا موقع دیتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک خاص طور پر سنگاپور، ملائیشیا، اور متحدہ عرب امارات نے ایسے ماڈلز کو کامیابی سے اپنایا ہے۔نجکاری کو اگر ایک حکمت عملی کے تحت شفاف انداز میں، اور قومی مفاد کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کئی اداروں کے لیے نجات دہندہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر اسے صرف وقتی مالی فوائد یا مخصوص طبقوں کے دباو? میں ا? کر انجام دیا جائے تو یہ نہ صرف عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہے بلکہ ملکی خودمختاری، روزگار اور بنیادی سہولیات پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔لہٰذا نجکاری پر کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت حکمرانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ جن اداروں کو بیچنے جا رہے ہیں وہ دراصل عوام کے اثاثے ہیں۔ ان اثاثوں کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر ریاست عوامی اعتماد، شفافیت اور فلاحی مقصد کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرے تو نجکاری ایک مثبت قدم بن سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر یہ صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی بحران کو جنم دے سکتی ہیجس کے نتائج دہائیوں تک بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔