امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت میں ہندوتوا ایجنڈے کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور آرایس ایس کے دورہ امریکہ پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت میں آرایس ایس سے وابستہ تنظیموں نے عیسائیوں، دلتوں، مسلمانوں اور سکھوں سمیت مذہبی اقلیتوں کے خلاف پُرتشدد حملے کیے ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ہندوتوا نظریے کی سرپرستی کرنے والی آرایس ایس بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو ہوا دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ، بھارتی حکومت پر بیرون ملک، خاص طور پر شمالی امریکہ میں، سکھ برادری کے قتل اور دیگر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے چیئرمین آصف محمود کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے تشدد اور اشتعال انگیزی کا استعمال جاری ہے۔ وائس چیئرمین سیس ہیِل نے خبردار کیا ہے کہ اگر احتساب نہ کیا گیا تو بھارت میں انتہا پسند ہجوم مذہبی قوانین اور دیگر پالیسیوں کے ذریعے اقلیتوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بناتے رہیں گے۔اس سلسلے میں، امریکی کمیشن نے 2026 کی اپنی رپورٹ میں بھارت کو "مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں" کے حوالے سے خاص تشویش کا ملک قرار دیتے ہوئے، اس کے لیے سفارشات بھی پیش کی ہیں۔