عالمی جریدے الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو مسلم خواتین کے خلاف نفرت انگیز مہمات اور آن لائن ہراسانی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر بھارت میں مسلم خواتین کئی برسوں سے آن لائن ہراسانی، نفرت انگیز مہمات اور توہین آمیز رویوں کا سامنا کر رہی ہیں، جبکہ اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے ان کے خلاف جعلی اور گمراہ کن مواد تیار کیا جا رہا ہے۔الجزیرہ کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے مسلم خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز کو تبدیل کر کے انہیں نازیبا اور غیر اخلاقی مناظر میں دکھایا جاتا ہے، جس کے ذریعے ان کی کردار کشی اور غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مئی 2023 سے مئی 2025 کے دوران تقریباً 13 لاکھ ویڈیوز تیار کی گئیں، جن میں مسلم خواتین کو نازیبا انداز میں پیش کیا گیا۔
سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کی ڈائریکٹر ایویئن لیڈگ کے مطابق ہندوتوا سے متاثرہ ماحول میں اس نوعیت کا مواد مسلم خواتین کے خلاف نفرت اور امتیازی رویوں کو مزید تقویت دیتا ہے۔بھارتی انسانی حقوق کے کارکن سمیر نے الجزیرہ کو بتایا کہ مسلم خواتین کی رضامندی کے بغیر ان کی تصاویر اور ویڈیوز کو اے آئی کی مدد سے اس انداز میں تبدیل کیا جاتا ہے کہ وہ بظاہر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث دکھائی دیں، جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔