لاہور: صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت ہنگامی اقدامات کر رہی ہے اور بڑی تنصیبات کو محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی بند توڑے جا رہے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو پہلے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے اور پھر حفاظتی بند توڑے جا رہے ہیں۔ ’’انسانوں کے ساتھ ساتھ مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، ہماری اولین ترجیح انسانی جانوں کو بچانا ہے‘‘۔عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ امید ہے ڈھائی لاکھ کیوسک پانی راوی اور شاہدرہ سے گزر جائے گا۔ ان کے مطابق ہیڈ قادرآباد کی گنجائش 9 لاکھ کیوسک ہے، جس میں ساڑھے 9 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کے بعد اب پانی کی سطح میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ لوگ حفاظتی بندوں پر کھڑے ہو کر سیلابی منظر نہ دیکھیں اور نہ ہی بچے پانی میں نہائیں۔ ’’یہ تفریح یا شغل میلے کا موقع نہیں ہے، عوام انتظامیہ سے تعاون کریں‘‘۔وزیرا اطلاعات نے بتایا کہ وزیرآباد شہر کی مرکزی شاہراہ سے پانی اتر چکا ہے اور حالات معمول کے مطابق ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے فلور ملز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب کو جواز بنا کر آٹے اور روٹی کی قیمتیں بڑھانا ناقابلِ قبول ہے۔ ’’وزیراعلیٰ پنجاب کی آٹے اور روٹی کی قیمت پر زیرو ٹالرنس ہے اور توقع ہے کہ سیلاب کے باوجود پنجاب میں گندم کی وافر پیداوار ہوگی‘‘۔