انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، وزیراعلیٰ سندھ

انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت ہنگامی خدمات سے متعلق اہم اجلاس میں سندھ بھر میں ہنگامی نظام کو مزید موثر اور جامع بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 اجلاس میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزراء، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اس اجلاس میں ہنگامی خدمات کے نظام کو جدید بنانے کے لیے 30.8 ارب روپے کے بڑے منصوبے کی منظوری دی گئی۔ اس منصوبے میں ریسکیو 1122 کا انضمام، جدید فائر فائٹنگ آلات، 100 فائر ٹرکس، اسنارکلز، ایریل سیڑھیاں، ڈرونز، فائربائیکس اور آل ٹیرین گاڑیاں شامل ہیں۔ صوبے بھر میں 122 ٹیموں کے ذریعے 3340 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا، جس کے نتائج سے معلوم ہوا کہ فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کی شرح 43 فیصد تک پہنچ گئی ہے، اور ہائی رسک عمارتوں کی تعداد 33 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی ہے۔ خلاف ورزیوں پر 3000 سے زائد نوٹسز جاری اور خطرناک عمارتیں سیل کی گئیں۔

وزیراعلیٰ نے ہنگامی خدمات میں اصلاحات کی سفارشات کی منظوری دی، جن میں ریسکیو 1122 اور پی ڈی ایم اے کو نئی اتھارٹی کے عملی بازو کے طور پر کام کرنے، اور سول ڈیفنس، ایمرجنسی ہیلتھ، اور معاوضہ نظام کو ایک چھتری تلے لانے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ریسکیو 1122 اکیڈمی کے قیام، عملے کی تربیت، اور نئی اتھارٹی کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے جامع قانون سازی کی ہدایت دی گئی ہے، جس کے لیے ایڈووکیٹ جنرل کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔