بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے راوی، چناب اور ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے راوی، چناب اور ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ

ویب ڈیسک:بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑے جانے کے بعد پنجاب کے کئی اضلاع میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس سلسلے میں پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے سیلاب کے حوالے سے باضابطہ وارننگ جاری کر دی ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق دریاؤں میں پانی کی تیز رفتاری سے آمد کے بعد لاہور، گوجرانوالہ، جھنگ، گجرات، قصور اور سیالکوٹ ڈویژن متاثر ہو سکتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کو ہنگامی ردعمل تیار رکھنے اور تمام اداروں کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔پی ڈی ایم اے نے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، محکمہ صحت، آبپاشی، زراعت، لائیو اسٹاک، ٹرانسپورٹ اور لوکل گورنمنٹ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ کو کہا گیا ہے کہ وہ سیلاب کی نگرانی کو مؤثر بنائے، قبل از وقت وارننگ سسٹم کو فعال کرے اور ہنگامی اقدامات کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائے۔

پانی کے بہاؤ کی صورتحال
سیلابی پانی کی موجودہ مقدار کے مطابق:

دریائے راوی پر جسر کے مقام پر بہاؤ 80,000 سے 120,000 کیوسک تک ہو سکتا ہے۔
دریائے چناب پر مرالہ کے مقام پر بہاؤ 150,000 سے 200,000 کیوسک تک جا سکتا ہے۔
دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بہاؤ 220,000 کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے۔
پس منظر
شمالی بھارت میں حالیہ دنوں ہونے والی طوفانی بارشوں کے نتیجے میں ڈیم بھر گئے ہیں۔ بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں ڈیموں سے پانی چھوڑا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں سیلابی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ بھارت نے مادھوپور ڈیم سے پانی چھوڑنے کے حوالے سے بھی باضابطہ اطلاع دی ہے۔قابل ذکر امر یہ ہے کہ بھارت نے اتوار کے روز پہلی بار پاکستان کو انڈس واٹر ٹریٹی (IWT) کے تحت سیلاب کے ممکنہ خطرات کے بارے میں آگاہ کیا، حالانکہ بھارت نے اپریل 2025 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے پہلگام واقعے کے بعد معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔بھارت کی جانب سے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ذریعے حکومتِ پاکستان کو باضابطہ خط بھیجا گیا، جس میں 24 اگست 2025 کو صبح 10 بجے جموں میں دریائے توی میں تیز سیلاب کے ممکنہ بہاؤ کا ڈیٹا فراہم کیا گیا۔

حکومتی اقدامات
پاکستانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر تیاری کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ممکنہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔