پنجاب حکومت نے توانائی کے شعبے میں غیر معیاری مصنوعات کے بڑھتے ہوئے استعمال کو روکنے اور بجلی کی بچت کو فروغ دینے کے لیے نئی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔
اس سلسلے میں صوبے میں ایک جدید توانائی بچت لیبارٹری قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پس منظر
حکام کے مطابق مارکیٹ میں غیر معیاری پنکھے، بیٹریز اور سولر مصنوعات کی بھرمار ہے۔یہ مصنوعات نہ صرف کم کارکردگی کا باعث بنتی ہیں بلکہ صارفین کے بجلی کے بلوں میں اضافے کا بھی سبب بنتی ہیں۔
نئی لیبارٹری کے فوائد
لیبارٹری کے قیام سے توانائی کی مصنوعات کے معیار کی مؤثر جانچ ممکن ہوگی۔بیٹری اور پنکھے بنانے والی فیکٹریوں کے آلات کے ساتھ ساتھ سولر ٹیکنالوجی کی بھی باضابطہ ٹیسٹنگ کی جائے گی۔اس مقصد کے لیے صوبے میں موجود سولر ٹیسٹنگ لیبز کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔منصوبہ نہ صرف مقامی صنعت کو سہارا دے گا بلکہ درآمدی مصنوعات پر انحصار کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
مالی پہلو
حکومت نے منصوبے کی فزیبیلٹی کے لیے 16 کروڑ روپے جاری کر دیے ہیں۔توقع ہے کہ لیبارٹری کے قیام کے بعد صارفین کو بہتر معیار کی مصنوعات دستیاب ہوں گی اور توانائی کے شعبے میں مجموعی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔