بیمار یا انتقال کرجانے والوں کی جگہ رشتے دار حج ادا کر سکیں گےوزارت مذہبی امور

مجبوری کے تحت حج نہ کرنے والے شخص کو رقم واپسی یا متبادل بھیجنے کا اختیار  دیدیاگیا، بیماری یا وفات کی صورت میں دستاویزی ثبوت جمع کرانا لازمی قرار
 حج پر نہ جانے کی وجوہات سٹامپ پیپر پر درج کرنا ہوں گی،  درخواست کے ساتھ بینک رسید اور شناختی کارڈ کی کاپی  بھی منسلک کرنا لازمی ہوگی
اسلام آباد (آن لائن)  وزارتِ مذہبی امور نے بیماری، مجبوری یا وفات کی صورت میں حج کی ادائیگی نہ کر پانے والے رجسٹرڈ عازمین کے حوالے سے باضابطہ پالیسی جاری کر دی ہے۔جاری کردہ پالیسی کے مطابق   اگر کوئی رجسٹرڈ شہری وفات پا جائے تو اس کی جگہ قریبی رشتہ دار کو حج پر بھیجنے کی اجازت دی جائے گی۔ اگر کوئی شخص کسی مجبوری کے باعث خود حج پر نہ جا سکے تو وہ کسی اور کو نامزد کر سکتا ہے۔  ایسے افراد کو رقم واپس لینے کا بھی اختیار ہوگا، تاہم اس کے لیے ٹھوس وجہ بیان کرنا لازمی ہوگی۔  پالیسی کے تحت بیماری یا وفات کی صورت میں دستاویزی ثبوت فراہم کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ حج پر نہ جانے کی وجہ اسٹامپ پیپر پر درج کرنا ہوگی جبکہ درخواست کے ساتھ بینک رسید اور شناختی کارڈ کی کاپی  بھی منسلک کرنا لازمی ہوگی۔وزارت نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدامات شفافیت اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھائے گئے ہیں تاکہ مستحق افراد کو کسی مشکل کے بغیر فریضہ حج کی ادائیگی کا موقع مل سکے۔