نجی ٹور آپریٹرز انتظار میں ہیں کوٹہ آ رہا ہے، کوئی کوٹہ نہیں آ رہا‘ وہ نقصان کے ذمہ دار ہیں‘پرائیویٹ سکیم کے تحت 25 ہزار 698 عازمین حجاز مقدس جائیں گے:سردار محمد یوسف
پاکستان میں اقلیتوں کے مقدس مقامات کو جتنی عزت، حفاظت اور احترام حاصل ہے، وہ دنیا کے لئے ایک روشن مثال ہے‘سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہا جائیگا:حسن ابدال میں گفتگو
اسلام آباد‘لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک‘سپیشل رپورٹر) وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے پرائیویٹ ٹور آپریٹرز عازمین کو پہنچنے والے نقصان کے ذمہ دار ہیں، پرائیویٹ ٹور آپریٹرز انتظار میں ہیں کوٹہ آ رہا ہے، کوئی کوٹہ نہیں آ رہا، پرائیویٹ سکیم کے تحت 25 ہزار 698 عازمین حجاز مقدس جائیں گے۔نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ اس دفعہ کی حج پالیسی نومبر میں منظور ہوئی تھی، جس کے بعد اس پر عمل در آمد ہوا، میں نے مارچ میں ذمہ داری لی اور انتظامات دیکھنا شروع کیے۔ پاکستان میں عازمین کے لیے 50 فیصد کوٹہ سرکاری اور اتنا ہی نجی شعبے کے لیے ہے، سرکاری کوٹہ وزارت کی ذمہ داری ہے، سرکاری کوٹہ پر بروقت کام ہوا، حاجیوں کی منظوری بھی بروقت ہوئی۔ نجی شعبے میں بروقت اقدامات نہیں ہو سکے، نجی شعبے میں آپریٹرز نے تاخیر سے کام لیا، سعودی گائیڈ لائنز کے منافی کام کیا گیا، پرائیویٹ ٹور آپریٹرز عازمین کو پہنچنے والے نقصان کے ذمہ دار ہیں۔سردار محمد یوسف نے کہا کہ دوبار سعودی عرب گیا، سعودی وزیر حج سے بھی ملاقات ہوئی، وزیراعظم نے بھی معاملے کا فوری نوٹس لیا تھا، بعض لوگوں کی غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے کچھ لوگ حج پر نہیں جاسکیں گے، غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔وفاقی وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت نے 14 فروری تک پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کو 25 فیصد رقم جمع کرانے کی ہدایت کی تھی، ڈیڈ لائن بڑھانے کے باوجود پرائیویٹ ٹور آپریٹرز نے صرف 10 ہزار مزید عازمین کی رقم جمع کرائی۔ وزیراعظم کی بنائی گئی انکوائری کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے، رپورٹ کی بنیاد پر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔دریں اثناء گردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال کے دورے کے دوران مقامی سکھ سنگت کے ہمراہ میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا پاکستان ایک پرامن، روادار اور انسان دوست ملک ہے جہاں مذہب، رنگ یا نسل کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا۔ پاکستان عملی طور پر بین المذاہب ہم آہنگی کا مظہر ہے اور یہاں اقلیتوں کو نہ صرف مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے بلکہ ان کے مقدس مقامات کی حفاظت اور تزئین بھی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔سردار محمد یوسف نے بھارت کی جانب سے گولڈن ٹیمپل پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے مقدس مقامات کو جتنی عزت، حفاظت اور احترام حاصل ہے، وہ دنیا کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ گوردواروں سمیت تمام اقلیتی ورثے سے جڑی عبادت گاہوں کی بحالی اور تزئین و آرائش کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ، پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی اور دیگر متعلقہ ادارے ملک میں آنے والے سکھ یاتریوں کی خدمت اور سہولیات کی فراہمی میں پیش پیش ہیں۔ کرتارپور راہداری اس عملی عزم کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ جون میں گورو ارجن دیو جی کے شہیدی دن اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کے موقع پر دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو پاکستان میں بھرپور خوش آمدید کہا جائے گا، اور ان تقریبات کے لیے اعلیٰ سطح کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔