خیبرپختونخوا اسمبلی نے زبانوں کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق، پشتو، ہندکو، سرائیکی اور انگریزی کے علاوہ اب گوجری زبان کو بھی اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ ترمیم وزیر قانون آفتاب عالم کی طرف سے پیش کی گئی تھی، جسے اسپیکر بابر سلیم نے منظوری دی۔اسپیکر بابر سلیم کا کہنا تھا کہ گوجری زبان بولنے والے ہزاروں لوگ موجود ہیں جن کی زبان میں شاعری بھی پائی جاتی ہے، اور اس زبان کی اہمیت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں دیگر زبانوں کو شامل کیا گیا ہے، اس حوالے سے گوجری زبان کے حوالے سے بھی بہت سے فون اور ای میل موصول ہو رہے تھے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ زبان عوام کے دلوں میں جگہ بنا چکی ہے۔
اسپیکر نے مزید کہا کہ گوجری زبان کو بطور چھٹی زبان اسمبلی کے لیگینج میں شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد زبان و ثقافت کے تحفظ اور فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے اس منظوری پر تمام متعلقہ فریقین کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے گوجری زبان کے بولنے والوں کے حقوق کا تحفظ ہوگا اور زبان کی ترقی میں مدد ملے گی۔یہ فیصلہ علاقائی ثقافت اور زبانوں کے تحفظ کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے، جس سے زبان و ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ مختلف لسانی گروہوں میں اتحاد و یگانگت کو بھی فروغ ملے گا۔