بھارتیوں کے امریکی ویزا میں بڑے فراڈ کا انکشاف:مہوش صدیقی

 90 فیصد بھارتی درخواستیں جعلی، تحقیقات پر سیاسی دبائو میں پردہ ڈال دیا گیا
واشنگٹن (آئی این پی ) بھارتی نژاد امریکی سفارتکار مہوش صدیقی نے دعوی کیا ہے کہ ایچ بی ون ویزا پروگرام میں بڑے پیمانے پر دھوکا دہی ہو رہی ہے اور زیادہ تر بھارتی درخواستیں جعلی ڈگریوں اور جعلی دستاویزات کی بنیاد پر منظور ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی دبائو  کے باعث ان کی ٹیم کی نشاندہی کے باوجود کارروائی نہیں کی گئی۔انڈیا ٹو ڈے کے مطابق بھارتی نژاد امریکی سفارتکار مہوش صدیقی نے ایچ ون بی ویزا پروگرام میں مبینہ منظم اور وسیع پیمانے پر فراڈ کا انکشاف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کام کے لئے جاری کیے جانے والے بیشتر بھارتی ایچ بی ون ویزے جعلی کاغذات، جعلی ڈگریوں یا کم اہل امیدواروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ الزامات انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران لگائے، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ ذاتی حیثیت میں بات کر رہی ہیں، بطور سفارتکار نہیں۔مہوش صدیقی 2005 سے 2007 تک امریکی قونصل خانے چنئی میں تعینات رہیں، جو دنیا کے مصروف ترین ایچ بی ون ویزا پروسیسنگ مراکز میں سے ایک ہے۔ 2024 میں اسی مرکز میں 2 لاکھ 20 ہزار ایچ بی ون اور 1 لاکھ 40 ہزار ایچ فور ویزوں کی جانچ کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم نے دھوکا دہی کے شواہد اعلی حکام تک پہنچائے، مگر سیاسی دبا کے باعث کوئی کارروائی نہیں ہوئی