سابق بلدیاتی ملازمین کی احتجاجی تحریک جاری ہے، جو برسوں سے واجب الادا اربوں روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی پر سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔
مظاہرین کی شدید نعرے بازی اور ایم اے جناح روڈ کی بلاکنگ
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریٹائرڈ ملازمین نے ایم اے جناح روڈ پر شدید نعرے بازی کی اور سیاہ و سرخ پرچم تھامے ہوئے کے ایم سی کی مرکزی عمارت کے باہر چادر بچھا کر بیٹھ گئے۔ ان کے احتجاج کے نتیجے میں ایم اے جناح روڈ اور اطراف کی سڑکوں پر شدید ٹریفک جام ہوگیا، جس سے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
پینشن کی ادائیگیوں میں بے ضابطگیاں
مظاہرین کا کہنا تھا کہ 2017 سے بہت سے ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن کی ادائیگیاں نہیں کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو بھی پینشن نہیں دی گئی، اور نئے ریٹائرڈ ہونے والے افراد کی فائلیں متعلقہ افسران وصول نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے دو ہزار سے زائد ملازمین متاثر ہو چکے ہیں۔
کے ایم سی پر 12 ارب روپے کے واجبات
مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) پر بلدیاتی ملازمین کے 12 ارب روپے کے واجبات ہیں، لیکن انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔
مظاہرین کا مطالبہ
مظاہرین نے اپنے واجبات کی فوری ادائیگی کی درخواست کی تاکہ ریٹائرڈ ملازمین معاشی مسائل سے نجات حاصل کر سکیں۔ بعد ازاں، مظاہرین نے ٹریفک کے لیے ایم اے جناح روڈ کو کھول دیا۔
آگے کی حکمت عملی
صدر سجن یونین، ذوالفقار شاہ نے کہا کہ مشاورت کے بعد دھرنا عارضی طور پر ختم کردیا گیا ہے۔ کل سے 25 ٹاؤن میں دو دن تک دو گھنٹے ہڑتال کی جائے گی۔ پیر سے کے ایم سی بلڈنگ کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا جائے گا، جس میں مختلف جماعتوں کو مدعو کیا جائے گا، اور وزیر اعلیٰ ہاؤس، سندھ اسمبلی اور سندھ سیکریٹریٹ جانے کی بھی دھمکی دی گئی ہے۔مظاہرین نے کہا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے لڑائی جاری رکھیں گے اور جب تک واجبات ادا نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا۔