محکمہ تعلیم کے درجہ چہارم کے ملازمین نے تنخواہوں کی چار ماہ سے عدم ادائیگی کے خلاف پنجاب ایجوکیشن کمپلیکس میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرے میں ملازمین نے تنخواہیں نہ ملنے پر سخت نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے واجبات فوری ادا کیے جائیں۔
مظاہرے کی تفصیلات:
شرکاء کے مطالبات:
مظاہرین نے سیکرٹری خالد منظور وٹو اور سی او نذیر حسین چھینہ کے خلاف احتجاج کیا اور کہا کہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث وہ فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔
خواتین ملازمین کا موقف:
خواتین نے کہا کہ سرکاری ملازمت ان کے لیے مشکل بن گئی ہے۔ موجودہ مہنگائی کے دور میں تنخواہ کے بغیر زندگی گزارنا ناممکن ہو گیا ہے۔
مذاکرات اور یقین دہانی:
سی او نذیر حسین چھینہ نے مظاہرین سے ملاقات کی اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ پیر تک تنخواہیں ادا کر دی جائیں گی۔ملازمین نے اس یقین دہانی پر احتجاج کو پیر تک ملتوی کر دیا۔
مظاہرین کی وارننگ:
اگر پیر تک تنخواہیں ادا نہ کی گئیں تو ملازمین نے اعلان کیا ہے کہ وہ سیکرٹری آفس کے باہر دھرنا دیں گے اور احتجاج جاری رکھیں گے۔
موجودہ صورتحال:
محکمہ تعلیم کو فوری طور پر ملازمین کے مسائل حل کرنے اور تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مظاہروں اور مشکلات سے بچا جا سکے۔