بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت ہوئی، جس میں ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل پیش کیے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رائے کا غلط ردعمل عوام کی طرف سے آیا اور ان کے خلاف 240 سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ سائفر کیس سپریم کورٹ تک گیا جبکہ دیگر تمام مقدمات میں عمران خان کو ماتحت عدالتوں سے ریلیف ملا۔بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں یہ وضاحت دی کہ وہ ضمانت کی درخواست کر رہے ہیں، نہ کہ مقدمے کے اخراج یا ڈسچارج کی۔ انہوں نے پرویز مشرف کے میڈیکل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک انہیں سچ ثابت کرنے کے لیے دنیا سے رخصت ہونا نہیں پڑا، کسی کو یقین نہیں آیا کہ ان کے میڈیکل درست تھے۔
دوسری جانب اسپیشل پراسیکیوٹر راؤ عبدالجبار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے خلاف مقدمات سرکار سے بغاوت اور حساس تنصیبات پر حملوں کے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے اشارے پر 200 سے زائد تنصیبات پر حملے کیے گئے، اور سوشل میڈیا پر انہیں "حقیقی جہاد" کے دن کے طور پر پیش کیا گیا۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے، جیسے کہ کرنل شیر خان کے مجسمے پر حملہ اور پولیس و رینجر اہلکاروں کی شہادتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ اور حملے اب بھی جاری ہیں، جبکہ عمران خان جیل میں ہیں اور ان کا موقف یہ ہے کہ وہ تو وہاں ہیں۔