ویب ڈیسک: سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے ججز کی ٹرانسفر اور سینیارٹی کے حوالے سے اہم کیس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما کے وکیل کو ابتدائی دلائل دینے سے روک دیا۔ عدالت نے کہا کہ پہلے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب دلائل مکمل کریں۔
سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کے سامنے کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ:"ججز کی تقرری کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے سینیارٹی لسٹ تیار کی گئی۔ 1970 میں ون یونٹ کے خاتمے کے بعد ججز کو مختلف ہائی کورٹس میں ٹرانسفر کیا گیا۔ اُس وقت بھی ان ججز کی سابقہ سروس کو تسلیم کیا گیا۔ اسی طرح 1976 میں جب سندھ اور بلوچستان کی علیحدہ ہائی کورٹس قائم ہوئیں، تو وہاں بھی ججز کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے سینیارٹی طے کی گئی۔"سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے:"ون یونٹ کے خاتمے کے بعد نئی عدالتیں تشکیل دی گئیں۔ سوال یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت جج کا تبادلہ مستقل تصور ہوگا یا عارضی؟"
انہوں نے مزید کہا کہ:"اٹارنی جنرل پہلے ہی اس معاملے پر عدالت کو بتا چکے ہیں کہ ججز کے تبادلے مستقل بنیادوں پر کیے گئے تھے، اس لیے اس پہلو پر مزید وضاحت ضروری ہے۔"
عدالت نے واضح کیا کہ دلائل کا منطقی تسلسل برقرار رکھنے کے لیے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو بعد میں سنا جائے گا۔ سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ مقدمہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری، تبادلے اور سینیارٹی کے حوالے سے ایک اہم آئینی تشریح کا موقع بن رہا ہے، جس کے فیصلے کے دور رس قانونی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔