عمران خان کے 8 مقدمات میں ضمانت کیسے؟ سلمان صفدر کے دلائل مکمل

عمران خان کے 8 مقدمات میں ضمانت کیسے؟ سلمان صفدر کے دلائل مکمل

لاہور:پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی آٹھ مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔

 اس دوران عمران خان کے وکیل، بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل مکمل کیے، اور عدالت نے جوابی دلائل کے لیے پراسیکیوشن کو طلب کر لیا ہے۔سماعت کے دوران، عدالت نے عمران خان کے مقدمات سے جڑے تمام غیر متعلقہ افراد کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا، اور صرف کیس سے متعلق افراد کو عدالت میں رہنے کی اجازت دی۔ عدالت نے بیرسٹر سلمان صفدر سے کہا کہ وہ خود کیس کے ماحول کا جائزہ لیں اور دلائل دیں۔سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے آٹھ مختلف مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں دائر کی ہیں، جن میں سے پانچ مقدمات میں وہ نامزد نہیں ہیں، جبکہ تین میں وہ نامزد ہیں۔ ان مقدمات میں جناح ہاؤس حملہ کیس، عسکری ٹاور اور تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ کیس شامل ہیں۔

سلمان صفدر نے یہ بھی کہا کہ یہ تمام مقدمات جھوٹے ہیں اور ان میں مدعی پولیس ہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے خلاف تمام مقدمات سیاسی سازش کا حصہ ہیں اور ان کی گرفتاری غیر قانونی تھی۔ سلمان صفدر نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کی ایک ججمنٹ میں عمران خان کی غیر قانونی گرفتاری کی بات کی گئی ہے۔سماعت کے دوران جسٹس طارق سلیم شیخ نے مختلف قانونی نکات پر سوالات کیے اور کیس کی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد عدالت نے جوابی دلائل کے لیے پراسیکیوشن کو طلب کر لیا اور مزید سماعت 14 اپریل تک ملتوی کر دی۔