پنجاب میں ٹریفک اصلاحات کا بڑا فیصلہ، جرمانے 10 گنا بڑھانے اور خلاف ورزی پر مقدمات کا اصولی فیصلہ

پنجاب میں ٹریفک اصلاحات کا بڑا فیصلہ، جرمانے 10 گنا بڑھانے اور خلاف ورزی پر مقدمات کا اصولی فیصلہ

لاہور (ویب ڈیسک): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک خصوصی اجلاس میں ٹریفک قوانین کی سختی سے نفاذ اور شہری نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔

 اجلاس میں ٹریفک جرمانے 10 گنا تک بڑھانے، خطرناک ڈرائیونگ پر مقدمات درج کرنے اور کم عمر ڈرائیورز کے والدین کے خلاف کارروائی جیسے اقدامات پر اصولی اتفاق کیا گیا۔

وزیراعلیٰ کے احکامات اور مشاہدات:
مریم نواز نے کہا کہ وہ خود مختلف سڑکوں پر جا کر ٹریفک کی صورتحال کا جائزہ لیتی ہیں۔انہوں نے شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ اور ٹریفک میں بہتری کے لیے سخت اقدامات پر زور دیا۔
اجلاس کے اہم فیصلے:
جرمانے 10 گنا تک بڑھانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔کم عمر بچوں کے ڈرائیونگ کرنے پر والدین کے خلاف مقدمہ درج ہوگا۔خطرناک انداز میں لٹکنے والے سریے والی گاڑیوں کو روک کر بند کر دیا جائے گا۔ون ویلنگ یا خطرناک ڈرائیونگ پر براہِ راست مقدمہ درج ہوگا۔بیدیاں روڈ سمیت دیگر سڑکوں سے ٹریفک کی رکاوٹیں فوری ہٹانے کا حکم۔
انفراسٹرکچر اور نظام میں بہتری:
پنجاب کے 372 اور لاہور کے 77 ٹریفک پوائنٹس کی ری ماڈلنگ پر غور۔
ہر ٹریفک چالان کے ساتھ ویڈیو یا تصویری ثبوت منسلک کرنے کی ہدایت۔
ٹریفک جام سے بچاؤ کے لیے روڈ سائیڈ ڈیجیٹل سکرینز لگانے کا فیصلہ۔
اضافی سختیاں اور ضوابط:
دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال کرنے پر بھاری جرمانہ لگانے پر اتفاق۔
بڑے روڈز کے کنارے سامان سے لدی ٹرالیاں کھڑی کرنے پر پابندی کا فیصلہ۔
خراب یا بند ہیڈلائٹس کے ساتھ گاڑی چلانے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
ٹریفک پولیس میں جدید اصلاحات:
ٹریفک وارڈنز کی یونیفارم تبدیل کرنے کی تجویز پر غور۔
ٹریفک پولیس کو پانچ کیٹیگریز میں تقسیم کیا جائے گا:

انفورسمنٹ آفیسر
ٹریفک ریگولیٹر
ایجوکیشن آفیسر
لائسنسنگ آفیسر
پبلک سروس آفیسر
ٹریفک وارڈنز کو ہدایت کی گئی کہ وہ ان کیمرہ چالان جاری کریں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ٹریفک پولیس کو جدید پیٹرول وہیکلز اور اعلیٰ ٹیکنالوجی سے لیس آلات فراہم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔