ویب ڈیسک: اسلام آباد میں موٹرسائیکل سواروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اہم اقدام اٹھایا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس نے فیصلہ کیا ہے کہ اب موٹرسائیکل پر سوار دونوں افراد — یعنی ڈرائیور اور پیچھے بیٹھنے والا — کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی ہو گا۔
قانون کا اطلاق کب سے ہوگا؟
اس حوالے سے چیف ٹریفک آفیسر سید ذیشان حیدر نے بتایا:
اس قانون کا اطلاق 2 ہفتوں کی آگاہی مہم کے بعد کیا جائے گا
مہم کے بعد اگر موٹرسائیکل پر دونوں سوار ہیلمٹ نہ پہنے ہوئے پائے گئے تو چالان اور جرمانہ کیا جائے گا
حادثات کے اعداد و شمار اور خطرات
ماہرین کے مطابق موٹرسائیکل چلانا، کار ڈرائیو کرنے سے 20 گنا زیادہ خطرناک عمل ہے
سڑک پر ہیلمٹ نہ پہننا جان لیوا حادثات کی بڑی وجہ بنتا ہے
کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں روزانہ کی بنیاد پر حادثات میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے
پاکستان میں ٹریفک سیفٹی کا چیلنج
پاکستان کی گنجان سڑکوں پر:
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں عام ہو چکی ہیں
موٹر سائیکل استعمال کرنے والا بڑا طبقہ نچلی مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے
ان میں سیفٹی شعور کی کمی کی وجہ سے حادثات کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں
موٹر سائیکل سوار اپنی حفاظت کیسے یقینی بنائے؟
سیفٹی ایک مکمل طرز زندگی ہے، جس میں درج ذیل امور شامل ہیں:
ہیلمٹ پہننا — دونوں سواروں کے لیے
رفتار پر کنٹرول
سڑک پر مکمل توجہ
بروقت بریک اور سگنل کا استعمال
موٹر سائیکل کی فنی حالت کی جانچ
درست لباس اور حفاظتی گیئر استعمال کرنا
اختتامیہ: قانون سازی کے ساتھ شعور بھی ضروری
اسلام آباد ٹریفک پولیس کا یہ اقدام قابل تحسین ہے، تاہم اس قانون پر عمل درآمد تبھی مؤثر ہو گا جب عوام میں شعور بھی بیدار کیا جائے۔ ایک محفوظ سفر صرف قانون سے نہیں بلکہ ذمہ داری سے بھی جُڑا ہوتا ہے۔