محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں پتنگ بازی کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ پتنگ سازی اور پتنگ بازی پر پابندی برقرار ہے۔
پتنگ بازی کرنے پر 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔پتنگ اور ڈور بنانے، بیچنے یا ترسیل کرنے پر 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔لاہور میں بسنت کی محدود اجازت صرف 6، 7 اور 8 فروری کو دی گئی ہے۔مقررہ دنوں اور وقت سے قبل پتنگ بازی غیر قانونی تصور ہوگی۔محکمہ داخلہ کے مطابق کسی بھی مقام پر قبل از وقت پتنگ سازی یا پتنگ بازی انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ ہے۔محکمہ داخلہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ پابندی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔