ٹینس کی دنیا کے لیجنڈ اور فرنچ اوپن کے بے تاج بادشاہ رافیل نڈال کو ایک جذباتی اور یادگار تقریب میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جہاں ہزاروں شائقین کھڑے ہو کر اپنے محبوب چیمپئن کو الوداع کہنے کے لیے موجود تھے۔
14 مرتبہ فرنچ اوپن جیتنے والے نڈال نے کورٹ فِلیپ شیتریر کو اپنی عظمت کی علامت بنا دیا، اور اب جب وہ 38 برس کی عمر میں شاید آخری بار اس کورٹ پر نظر آئے، تو ہر طرف "Merci Rafa" (شکریہ رافا) کے نعرے گونجنے لگے۔
جذبات سے بھرپور خطاب
نڈال نے اپنی تقریر کا آغاز فرانسیسی زبان میں کرتے ہوئے کہا، "یہ بہت مشکل ہے، میں نہیں جانتا کہاں سے شروع کروں۔ یہاں 20 سال کے دوران کھیلنے، جیتنے، ہارنے اور سب سے بڑھ کر جذباتی لمحات جُڑے ہوئے ہیں۔" انہوں نے بعدازاں انگریزی اور ہسپانوی زبانوں میں بھی خطاب کیا اور اپنی کئی ناقابلِ فراموش یادیں شائقین سے شیئر کیں۔ انہوں نے کہا: "یہ کورٹ بلاشبہ میرے کیریئر کا سب سے اہم مقام رہا ہے۔"
عدیم المثال ریکارڈ
رافیل نڈال نے فرنچ اوپن میں 112 میچز جیتے اور صرف 4 میں شکست کھائی، جبکہ 14 فائنلز میں کبھی شکست کا سامنا نہیں کیا۔ ان کی اس ناقابلِ یقین کارکردگی کو ماہرین اور مداحوں نے ایک ایسے کارنامے کے طور پر سراہا جس کا دہرایا جانا تقریباً ناممکن سمجھا جا رہا ہے۔
ٹینس کے عظیم حریف، بہترین ساتھی
تقریب کو مزید تاریخی بنانے کے لیے نڈال کے تین بڑے حریف — راجر فیڈرر، نوواک جوکووچ اور اینڈی مرے — بھی موجود تھے۔ تینوں نے کورٹ میں آ کر نڈال سے گلے ملے۔ نڈال نے کہا: "ہم نے دنیا کو دکھایا کہ سخت مقابلہ کرتے ہوئے بھی اچھے ساتھی اور باعزت حریف بنا جا سکتا ہے۔ آپ سب نے مجھے کورٹ میں بہت مشکل وقت دیا، لیکن اسی نے مجھے آگے بڑھنے پر مجبور کیا۔"
نایاب خراج
نڈال کو ان کے قدموں کا ایک کانسی کا نقش تحفے میں پیش کیا گیا جو اب کورٹ فِلیپ شیتریر کا مستقل حصہ ہوگا، اور ان کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ تقریب کے آخر میں نڈال اپنے 2 سالہ بیٹے کے ساتھ کورٹ پر آئے، مداحوں کو ہاتھ ہلا کر الوداع کہا، اور کہا:"میں اب آپ کے سامنے کھیلنے کے قابل نہیں رہا، لیکن میرا دل اور میری یادیں ہمیشہ اس جادوئی مقام سے وابستہ رہیں گی۔"رافیل نڈال نہ صرف ایک شاندار ایتھلیٹ بلکہ کھیل کی روح، عزت اور محبت کی علامت بن کر فرنچ اوپن کی تاریخ کا اٹوٹ حصہ بن گئے ہیں۔