فرنچ اوپن میں انعامی رقم کے تنازع پر کھلاڑیوں کا احتجاج، ایونٹ کے بائیکاٹ کی دھمکی

فرنچ اوپن میں انعامی رقم کے تنازع پر کھلاڑیوں کا احتجاج، ایونٹ کے بائیکاٹ کی دھمکی

ویمنز ٹینس کی عالمی نمبر ایک آرینا سبالینکا نے گرینڈ سلیم ٹورنامنٹس کے انتظامی ڈھانچے کو خبردار کیا ہے کہ اگر کھلاڑیوں کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو بائیکاٹ جیسے اقدامات بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سبالینکا سمیت تقریباً 20 معروف کھلاڑیوں نے فرنچ اوپن (رولانڈ گیروس) کی انعامی رقم اور مالی تقسیم پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان کھلاڑیوں کا مؤقف ہے کہ ٹورنامنٹس کی مجموعی آمدنی میں ان کا حصہ مناسب نہیں رکھا جا رہا، حالانکہ شائقین کی دلچسپی اور ایونٹ کی کشش بنیادی طور پر انہی کی کارکردگی سے جڑی ہوتی ہے۔کھلاڑیوں کے مطابق موجودہ صورتحال میں انعامی رقم ٹورنامنٹ کی مجموعی آمدنی کے 15 فیصد سے بھی کم بنتی ہے، جبکہ ان کا مطالبہ ہے کہ اسے کم از کم 22 فیصد تک بڑھایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پلیئر ویلفیئر پروگرامز میں سرمایہ کاری اور کھلاڑیوں کی بہتر نمائندگی بھی اہم مطالبات میں شامل ہیں۔سبالینکا نے کہا کہ ٹینس کی اصل طاقت کھلاڑی ہیں اور اسی لیے ان کے معاوضے میں اضافہ ضروری ہے۔

 ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف موجودہ نہیں بلکہ مستقبل کے کھلاڑیوں کے حقوق سے بھی جڑا ہوا ہے۔دوسری جانب امریکی کھلاڑی کوکو گاف نے کھلاڑیوں کے اس مؤقف کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اجتماعی آواز ہی تبدیلی لا سکتی ہے۔ تاہم عالمی نمبر تین ایگا سواتیک نے بائیکاٹ کو سخت قدم قرار دیتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔یہ تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی ٹینس میں کھلاڑیوں کے مالی حقوق اور ٹورنامنٹ آمدنی کی تقسیم پر بحث تیزی اختیار کر رہی ہے۔