ویب ڈیسک: سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ صنم جاوید کی درخواست ضمانت پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔
سماعت جسٹس فاروق حیدر نے کی، وفاقی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سردار امیر حمزہ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ صنم جاوید کے والد جاوید اقبال خان بھی سماعت کے دوران موجود تھے۔درخواست میں ڈی جی ایف آئی اے سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایف آئی اے نے صنم جاوید کے خلاف ریاستی اداروں اور عہدیداروں کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے، اور وہ اس وقت جیل میں قید ہیں۔
یاد رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج نے اس الزام پر ان کی ضمانت کی درخواست پہلے ہی مسترد کر دی تھی۔ صنم جاوید نے اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا اور درخواست میں مؤقف اپنایا کہ ان کے خلاف سیاسی بنیادوں پر کارروائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔